پاکستان زیرانتظام کشمیر میں اکثریتی اسکول بنیادی سہولیات سے محروم، صحت کا شعبہ شدید بحران کا شکار

پاکستان اکنامک سروے نے پاکستان زیر انتظام کشمیر (AJK) میں سماجی شعبوں بالخصوص تعلیم اور صحت کی زبوں حالی کے حوالے سے انتہائی تشویشناک اور آنکھیں کھول دینے والے اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، جہاں ایک طرف خطے کے اکثریتی اسکول پانی، بجلی اور واش روم جیسی بنیادی انسانی سہولیات سے محروم ہیں، وہاں دوسری طرف لاکھوں کی آبادی کے لیے صحت کا ڈھانچہ بھی انتہائی مخدوش پایا گیا ہے۔

اقتصادی سروے میں سامنے آنے والے اعداد و شمار کی تفصیلی رپورٹ درج ذیل ہے:

۱۔ شعبہ تعلیم: آزاد کشمیر کے اسکولوں کی مایوس کن صورتحال

سروے کے مطابق، آزاد کشمیر میں مستقبل کے معماروں کو فراہم کی جانے والی تعلیمی مہم اور اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے (Infrastructure) کی صورتحال درج ذیل ہے:

بجلی کی عدم دستیابی: آزاد کشمیر کے 57 فیصد اسکولوں میں بجلی کی سرے سے کوئی سہولت موجود ہی نہیں ہے۔

پانی کا بحران: خطے کے 63 فیصد اسکول پینے کے صاف پانی کی بنیادی ترین سہولت سے محروم ہیں۔

سینیٹیشن کی ابتر صورتحال: تعلیمی اداروں میں صفائی ستھرائی کا نظام اس قدر ناقص ہے کہ 54 فیصد اسکولوں میں باتھ روم (واش روم) کی سہولت تک میسر نہیں ہے۔

سیکیورٹی کا فقدان: طلباء اور اساتذہ کی حفاظت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 60 فیصد اسکولوں کی کوئی حفاظتی دیوار (Boundary Wall) ہی موجود نہیں ہے۔

۲۔ شعبہ صحت: 45 لاکھ آبادی کے لیے ناکافی طبی وسائل

تعلیم کے ساتھ ساتھ صحت کے شعبے میں بھی آزاد کشمیر کے عوام شدید ترین محرومیوں کا سامنا کر رہے ہیں:

ہسپتالوں کے بستر (Beds): خطے کی 45 لاکھ سے زائد آبادی کے لیے پورے آزاد کشمیر میں ہسپتالوں کے کل بستروں کی تعداد محض 2,950 ہے، جو آبادی کے لحاظ سے انتہائی ناگزیر ہے۔

ڈاکٹروں کی شدید کمی:
اتنی بڑی آبادی کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے مجموعی طور پر صرف 1,445 ڈاکٹرز، سرجنز اور میڈیکل آفیسرز تعینات ہیں۔

جدید تشخیصی مشینری کا فقدان: ہسپتالوں میں سی ٹی اسکین (CT Scan) اور ایم آر آئی (MRI) مشینوں کی عدم دستیابی ایک بڑا مسئلہ ہے، جس کا مطالبہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے بنیادی چارٹر آف ڈیمانڈز میں بھی سرِفہرست رہا ہے۔

بجٹ تجاویز اور عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات کا تصادم

معاشی رپورٹ کے مطابق، آزاد کشمیر کے ہسپتالوں کو سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی جیسی جدید ترین تشخیصی مشینوں سے لیس کرنے کے لیے 5.53 ارب روپے کے خطیر فنڈز کی اشد ضرورت ہے۔ تاہم، اس سنگین ضرورت کے برعکس حکومتِ پاکستان کی جانب سے حالیہ بجٹ میں اس مد کے لیے محض 94 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جو کہ اصل ضرورت کے مقابلے میں اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہے۔

سیاسی و سماجی حلقوں کا ردِعمل:
تجزیہ کاروں اور عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار حکومتی دعووں کی قلعی کھولتے ہیں۔ ایک طرف آزاد کشمیر کے وسائل لوٹے جا رہے ہیں اور دوسری طرف یہاں کے بچوں کو اسکولوں میں پانی، بجلی اور خواتین کے لیے باتھ روم تک میسر نہیں، جبکہ ہسپتال محض ریفرل سینٹر بن چکے ہیں۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ صحت اور تعلیم کے ان سنگین مسائل کو ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جائے اور فنڈز کی فراہمی کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے۔

Share this content: