"تشدد بند کرو، سچائی بحال کرو”،کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر عوامی ایکشن کمیٹی کی رپورٹ جاری

مظفرآباد / راولاکوٹ / کاشگل نیوز

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) کے انسانی حقوق سیل نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 5 تا 12 جون 2026 کے دوران انسانی حقوق کی ابتر صورتحال پر ایک تفصیلی اور جامع رپورٹ جاری کی ہے۔ "تشدد بند کرو، سچائی بحال کرو” کے عنوان سے جاری کی گئی اس رپورٹ میں مصدقہ عوامی اطلاعات، انسانی حقوق کی دستاویزات، مقامی صحافیوں کے بیانات، متاثرہ خاندانوں سے منسلک شہادتوں اور قابلِ اعتبار الزامات کو یکجا کر کے حکام کی سنگین معاشی و جانی کارروائیوں کو بے نقاب کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، 9 جون 2026 کو چمب، بھمبر سے ایک تاریخی لانگ مارچ کا آغاز ہوا تھا۔ راستے میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر گرفتاریاں، رکاوٹیں، شدید تشدد اور جانی نقصان پیش آیا، لیکن ان تمام جابرانہ ہتھکنڈوں کے باوجود 60,000 سے زائد پُرامن شرکاء کامیابی کے ساتھ راولاکوٹ پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔

انسانی حقوق سیل کے مطابق، تنظیم کی مرکزی کمیٹی نے مزید خونریزی کو روکنے اور بامعنی مذاکرات کے لیے ایک سازگار فضا پیدا کرنے کی غرض سے راولاکوٹ پہنچ کر لانگ مارچ کو عارضی طور پر روک دیا۔

رپورٹ میں خطے کے اندر جاری ریاستی کریک ڈاؤن اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے حوالے سے درج ذیل خدشات کو نمایاں کیا گیا ہے۔

پُرامن شہریوں پر بلاجواز اور اندھا دھند طاقت کا استعمال کیا گیا، جس سے جانی نقصان ہوا۔ پُرامن اجتماع اور آئینی تنظیم سازی کو جرم قرار دے کر شہریوں کو حراست میں لیا جا رہا ہے۔ انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کی بندش کے باعث ہنگامی امدادی کارروائیاں بری طرح متاثر ہوئیں اور زخمیوں کو طبی سہولیات تک رسائی سے محروم رکھا گیا۔ معاشی انتقامی کارروائیوں کے تحت حامی تاجروں کے کاروبار اور دکانیں سیل کی گئیں، جبکہ کرفیو زدہ علاقوں میں فورسز کی جانب سے مبینہ لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کے واقعات سامنے آئے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ مقامی ذرائع ابلاغ اور صحافیوں پر دباؤ ڈال کر آزادانہ رپورٹنگ کو روکا گیا۔ لاپتہ افراد، لاشوں کی منتقلی اور متاثرہ خاندانوں پر سنگین مبینہ دباؤ ڈالے جانے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں حکومت اور مقتدر حلقوں سے فوری طور پر درج ذیل مطالبات کیے گئے ہیں:

رپورٹنگ کے اس عرصے (5 تا 12 جون) کے دوران ہونے والی تمام ہلاکتوں، زخمیوں، گمشدگیوں، طبی امداد سے محرومی، گرفتاریوں اور لاشوں کے ساتھ کیے گئے ناروا سلوک کی فوری طور پر آزاد، غیر جانبدار اور عوامی تحقیقات کرائی جائیں۔ حکام ہلاک شدگان، زخمیوں، زیرِ حراست اور لاپتہ افراد کی تصدیق شدہ فہرستیں فوری طور پر پبلک کریں۔ ہلاک ہونے والے مظاہرین کی لاشیں بغیر کسی جبر، دباؤ یا شرط کے فوری طور پر ان کے لواحقین کے حوالے کی جائیں۔

پُرامن عوامی تحریکوں اور سیاسی کارکنان کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کے قوانین (ATA) کا سیاسی استعمال فی الفور بند کیا جائے۔ خطے میں بلاجواز بند انٹرنیٹ اور موبائل نیٹ ورک سروسز کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔

جے کے جے اے اے سی (JKJAAC) کا انسانی حقوق سیل اس رپورٹ کو فوری توجہ اور کارروائی کے لیے اقوامِ متحدہ کے متعلقہ اداروں، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، پارلیمانی انسانی حقوق کمیٹیوں، سفارتی مشنز، عالمی ذرائع ابلاغ اور سول سوسائٹی کے شراکت داروں کو ارسال کر رہا ہے۔

رپورٹ کے حاصلِ کلام میں واشگاف الفاظ میں کہا گیا ہے کہ "مُردوں کو وقار کا حق حاصل ہے۔ زخمیوں کو علاج کا حق حاصل ہے۔ زیرِ حراست افراد کو قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی کا حق حاصل ہے۔ خاندانوں کو سچ جاننے کا حق حاصل ہے۔ لاپتہ افراد کا حساب دینا ضروری ہے۔”

انسانی حقوق سیل نے تمام حقوق کے کارکنوں، جمہوری اداروں، صحافیوں، قانونی برادری اور کشمیری تارکینِ وطن (Over Seas) سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اس رپورٹ کو پڑھیں، اسے وسیع پیمانے پر پھیلائیں اور خطے میں سچائی سامنے لانے، تحفظ فراہم کرنے اور مؤثر عالمی توجہ مبذول کرانے کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔

Share this content: