جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی (جے کے پی این پی) کے رہنما الیاس کشمیری نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جبری گمشدگیاں تشویشناک صورتحال اختیار کر چکی ہیں۔ ساری توجہ راولاکوٹ کے دھرنوں پر مرکوز ہونے کی وجہ سے جبری گمشدگیوں میں آنے والی تیزی عدم توجہی کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرپور اور پونچھ ڈویژن کے لوگ راولاکوٹ دھرنوں میں موجود ہیں جبکہ سیکورٹی فورسیز نے مظفرآباد اور میرپور ڈویژن سمیت پونچھ ڈویژن کے کچھ علاقوں میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ تیز کیا ہوا ہے۔ یوں تو یہ سلسلہ 06 جون سے جاری ہے لیکن 177ایف آئی آرز کو دوبارہ بحال کرنے اور عوامی ایکشن کمیٹی سے منسلک لوگوں کے اثاثے منجمد کرنے کے فیصلے کے بعد جبری گمشدگیوں کے سلسلے میں بہت زیادہ شدت آ گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جبری گمشدہ لوگوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے اور جس تیزی کیساتھ یہ سلسلہ جاری ہے جلد یہ تعداد ہزاروں میں چلی جائے گی۔
بیان میں کہاگیا کہ اس پیچیدہ مسئلے پر توجہ دینے کی بہت زیادہ ضرورت ہے کیونکہ ریاست اور سیکورٹی فورسیز کا جو رویہ ہے اس سے یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ اجتماعی نسل کشی کا ایسا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جس کو رکاوٹ نہ دی گئی تو آنے والے وقتوں میں ہمیں مسخ شدہ لاشیں ملیں گی۔ یہ اس ریاست کا ماضی کا مسلسل کردار ہے۔
جے کے پی این پی رہنما کا کہنا تھا کہ اس تشویشناک صورتحال میں جبری گمشدگیوں کے عمل کو مزاحمت کے ذریعے روکنا بہت ضروری ہے۔ جس کے لیے محلے کی سطح پر عوامی تحفظ کمیٹیاں فی الفور قائم کی جاہیں، جو لوگ راولاکوٹ دھرنوں میں موجود نہیں ہیں فوری طور پر عوامی تحفظ کمیٹیوں کی تشکیل کو یقینی بنا کر جبری گمشدگیوں کے سلسلے کو عوامی مزاحمت کیساتھ روکیں۔
Share this content:


