بلوچستان کے ضلع خضدار سے یکم دسمبر 2025 کو جبری طور پر لاپتہ کی گئی نوجوان خاتون فرزانہ بلوچ کو بلوچستان حکومت نے کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ’خودکش بمبار‘ کے طور پر پیش کیا، جس پر بلوچ سیاسی حلقوں، انسانی حقوق تنظیموں اور مختلف گروہوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ خاتون کو مبینہ طور پر ایک کارروائی کے دوران خودکش حملے کی تیاری سے قبل گرفتار کیا گیا، جبکہ اہلِ خانہ اور سماجی حلقے اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں۔
پریس کانفرنس میں خاتون کو ’لائبہ‘ کے نام سے متعارف کرایا گیا اور دعویٰ کیا گیا کہ وہ شدت پسند عناصر کے رابطے میں تھیں۔ تاہم اہلِ خانہ کا مؤقف ہے کہ وہ یکم دسمبر 2025کی شب اسپتال سے گھر واپسی کے دوران لاپتہ ہوئیں اور تین ماہ سے زائد عرصے تک انہیں کسی عدالت یا قانونی فورم پر پیش نہیں کیا گیا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) نے حکومتی الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فرزانہ بلوچ کی طویل غیرقانونی حراست کے بعد ان سے دباؤ کے تحت بیان دلوایا گیا۔
تنظیم کے مطابق یہ اقدام جبری گمشدگیوں پر اٹھنے والے سوالات کو دبانے اور بی وائی سی کی قیادت کے خلاف جاری کارروائیوں کو جواز دینے کی کوشش ہے۔
بی وائی سی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے دعوؤں کے ثبوت پیش کرے یا عوامی سطح پر معذرت کرے۔
دوسری جانب بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ میڈیا کے سامنے پیش کی گئی خاتون کا تنظیم سے کوئی تعلق نہیں۔
بی ایل اے کے ترجمان کے مطابق ریاستی ادارے ماضی میں بھی جبری لاپتہ افراد کو پریس کانفرنسوں میں مختلف دعوؤں کے ساتھ پیش کرتے رہے ہیں، جنہیں بعد میں عدالتوں نے مسترد کیا۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ اس طرح کی کارروائیاں بلوچستان میں جاری کشیدگی اور عسکری صورتحال سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہوتی ہیں۔
بلوچ سیاسی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی پریس کانفرنسیں نہ صرف جبری گمشدگیوں کے حوالے سے شکوک کو بڑھاتی ہیں بلکہ متاثرہ خاندانوں کے خدشات کو بھی تقویت دیتی ہیں۔ انسانی حقوق تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ فرزانہ بلوچ کی حراست، پیشی اور الزامات کے حوالے سے شفاف تحقیقات کی جائیں۔
Share this content:


