پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے میرپور میں جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کی 6ویں قومی کانگرس میرپور میں منعقد ہوئی جس میں سیاسی، سماجی اور تنظیمی موضوعات پر تفصیلی بحث کی گئی۔
اجلاس میں دو سال کے لیے نئی مرکزی کابینہ کا انتخاب عمل میں آیا، جس میں واجد علی ایڈووکیٹ چیئرمین اور الیاس کشمیری سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے۔
دیگر عہدیداران میں آصف کشمیری (وائس چیئرمین)، ماجد خان (چیف آرگنائزر)، جبار ایڈووکیٹ (سیکرٹری فنانس)، کرن کنول (سیکرٹری نشرواشاعت)، رضوان رشید (سیکرٹری اسٹڈی سرکل)، شان جاوید (ڈپٹی آرگنائزر) اور شاویز اقبال (ڈپٹی جنرل سیکرٹری) شامل ہیں۔
نو منتخب کابینہ سے اسلم وطنوف نے حلف لیا۔
جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کی قومی کانگریس کے سیاسی سیشن میں مختلف موضوعات پر مقررین نے اظہار خیال کیا۔
کامریڈ امداد قاضی، واجد علی ایڈووکیٹ اور زولفقار احمد ایڈووکیٹ نے سامراجی جارحیت اور نو آبادیات کے خاتمے پر گفتگو کی۔
سجاد افضل، امجد اسلام امجد، یاسین انجم، رضوان کرامت اور وحید احمد نے پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر و گلگت بلتستان میں عوامی تحریک کے امکانات پر روشنی ڈالی۔
پروفیسر نغمان عارف کمپلوی، عثمان کاشر اور شہزاد حسرت نے آزاد جموں کشمیر میں محاصرے کے الیکشنز اور انتخابی اصلاحات پر خطاب کیا۔
سلمہ حمید اور کرن کنول نے پسماندہ سماج میں خواتین کے انقلابی کردار اور ان کے مسائل پر بات کی۔
کامریڈ طاہر مجتبیٰ نے طلباء یونین کی بحالی اور طلباء تنظیموں کے کردار پر زور دیا۔
کانگریس میں سماجی رہنما ہمایوں پاشا، طلحہ ایڈووکیٹ اور نئے شامل ہونے والے ممبر ثاقب تصدق نے بھی خطاب کیا۔
ساجد امین نے انقلابی نظم اور اسلم وطنوف نے انقلابی ترانہ پیش کیا۔
کامریڈ امداد قاضی نے کہا کہ "امریکی سامراج شکست خوردہ ہے اور سرمایہ دارانہ نظام اپنے انجام کی طرف گامزن ہے”۔
واجد علی ایڈووکیٹ نے مطالبہ کیا کہ "عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے رہنماؤں کو رہا کیا جائے اور بے بنیاد مقدمات ختم کیے جائیں”۔
شرکاء نے پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر و گلگت بلتستان میں عوامی حقوق تحریک کو محنت کش عوام کے استحصال سے نجات کا ذریعہ قرار دیا۔
انتخابی اصلاحات پر گفتگو کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ "2026 کے انتخابات کے حوالے سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا موقف درست ہے اور چارٹر آف انتخابات میں مزید گنجائش موجود ہے”۔
طلباء یونین پر پابندی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ "یہ پابندی طلباء سے ان کے حقوق کی جدوجہد کا حق چھیننے کے مترادف ہے اور اس کے ذریعے موروثی سیاست کو فروغ دیا جا رہا ہے”۔
خواتین رہنماؤں نے زور دیا کہ "پسماندہ سماجوں میں محنت کش خواتین دہرے جبر کا شکار ہیں اور اس جبر سے نجات انقلابی تنظیم کی تعمیر سے ہی ممکن ہے”۔
اجلاس کے اختتام پر نوجوان انقلابیوں نے پرجوش نعرے بازی کی۔
پارٹی کے شعبہ نشرواشاعت کے مطابق تمام تقاریر اور مباحث کی ویڈیوز جلد پارٹی پیج اور ویب سائٹ پر اپلوڈ کی جائیں گی۔
Share this content:


