ایمان مزاری اور ہادی علی کو مزید 100 دن کے لئے جیل میں رکھنے کا فیصلہ

انسانی حقوق کے وکلاء ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سوشل میڈیا پر اظہارِ رائے کے مقدمے میں دی گئی سزا کے بعد مسلسل حراست میں رکھنے پر قانونی حلقوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔

دونوں وکلاء کو محض سوشل میڈیا پوسٹس کی بنیاد پر 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، جس کے بعد اب انہیں مزید 100 دن کے لیے جیل میں رکھنے کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔ اس اقدام کو وکلاء تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنان نے غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔

اس سلسلے میں انسانی حقوق کے عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل نے سوشل میڈہا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹر جاری کی ہے جس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کی رہائی کے مطالبے میں لوگوں سے ساتھ دینے کی اپیل کی گئی ہے ۔

بیان میں کہا گیا کہ انسانی حقوق کے وکلاء ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو محض سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے پر 10 سال کی سزا کاٹتے ہوئے اب 100 دن کے لیے غیر منصفانہ طور پر جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں ان کی اپیلوں پر سماعت نہیں ہوئی اور انہیں غیر معمولی تاخیر کا سامنا ہے۔

اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر اپیلوں پر تاحال سماعت نہیں ہو سکی، جس کے باعث قانونی عمل میں غیر معمولی تاخیر پیدا ہو گئی ہے۔

ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ ایسے مقدمات میں بروقت سماعت بنیادی حقوق کا حصہ ہے۔

یہ معاملہ ملک میں اظہارِ رائے کی آزادی اور عدالتی نظام کی رفتار سے متعلق ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر رائے دینے پر سخت سزائیں جمہوری اقدار کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔

وکلاء برادری کے کچھ حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مقدمے کی فوری سماعت کی جائے اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں، تاکہ انصاف کی فراہمی میں تاخیر کا تاثر ختم ہو سکے۔

مزید پیش رفت کا انحصار عدالتوں میں آئندہ سماعتوں اور قانونی کارروائی پر ہوگا، جس پر ملکی و بین الاقوامی سطح پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

Share this content: