پاکستان افغانستان کشیدگی میں عارضی جنگ بندی کا اعلان

پاکستان اور افغانستان نے عیدالفطر کے احترام میں ایک دوسرے کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں میں 18–19 مارچ کی شب سے 23–24 مارچ کی شب تک عارضی وقفے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ سعودی عرب، قطر اور ترکی کی درخواست پر کیا گیا۔

پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ اگر سرحد پار سے کوئی حملہ ہوا تو کارروائیاں فوراً دوبارہ شروع کر دی جائیں گی۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی ’آپریشن ردالظلم‘ میں وقفے کا اعلان کیا مگر واضح کیا کہ قومی سلامتی کو خطرہ ہوا تو جواب دیا جائے گا۔

کابل کے منشیات بحالی مرکز پر فضائی حملے کے بعد دونوں ممالک کے بیانات میں سختی آئی۔

پاکستان کا دعویٰ ہے کہ نشانہ ہتھیاروں اور ڈرونز کے ڈپو تھے، جبکہ طالبان کہتے ہیں کہ حملے میں 400 سے زائد افراد مارے گئے۔

اقوام متحدہ کے مطابق کم از کم 143 ہلاکتیں ہوئیں اور اس نے آزاد تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

طالبان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے اجتماعی نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔

اسلام آباد کی امام بارگاہ پر خودکش حملے کے بعد پاکستان نے افغانستان میں 22 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔

پاکستان کا الزام ہے کہ ٹی ٹی پی افغانستان سے حملے کرتی ہے، جبکہ طالبان اس کی تردید کرتے ہیں۔

دونوں جانب سے ڈرون حملوں، چوکیوں کی تباہی اور بھاری جانی نقصان کے دعوے جاری ہیں۔

گزشتہ برس بھی جنگ بندی کے باوجود سرحدی جھڑپیں جاری رہی تھیں۔

Share this content: