دہشت گردی کے عالمی انڈیکس 2026 کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران دہشت گردی کے اثرات مزید گہرے ہو گئے ہیں، جہاں ہلاکتوں میں اضافہ جبکہ حملوں کی مجموعی تعداد میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دہشت گردانہ حملوں میں ہلاک افراد کی تعداد تقریباً چھ فیصد اضافے کے ساتھ 1,139 تک پہنچ گئی ہے۔ یہ مسلسل چھٹا سال ہے جب ملک میں دہشت گردی سے ہونے والی اموات میں اضافہ دیکھا گیا، جو سیکیورٹی صورتحال کے تسلسل سے بگڑنے کی نشاندہی کرتا ہے۔
دوسری جانب، دہشت گرد حملوں کی مجموعی تعداد میں معمولی کمی دیکھی گئی۔ 2024 میں 1,098 حملوں کے مقابلے میں 2025 میں یہ تعداد کم ہو کر 1,045 رہی۔
ماہرین کے مطابق حملوں کی تعداد میں کمی کے باوجود ان کی شدت اور مہلک نوعیت میں اضافہ ایک تشویشناک رجحان ہے۔
رپورٹ میں ایک اور اہم پہلو یرغمال بنائے جانے کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہے۔ 2024 میں ایسے واقعات کی تعداد 101 تھی، جو 2025 میں بڑھ کر 655 ہو گئی — یعنی چھ گنا سے زیادہ اضافہ۔ یہ رجحان شدت پسند گروہوں کی حکمت عملی میں تبدیلی کی طرف اشارہ کرتا ہے، جہاں براہ راست حملوں کے ساتھ ساتھ اغوا اور یرغمال بنانے کے واقعات کو بھی بڑھایا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حملوں کی تعداد میں معمولی کمی بظاہر مثبت اشارہ لگ سکتی ہے، لیکن ہلاکتوں اور یرغمالی واقعات میں اضافہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ دہشت گردی کا خطرہ بدستور موجود ہے اور اس کی نوعیت مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں حکومت اور سیکیورٹی اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق اپنی حکمت عملی کو ازسرِنو ترتیب دیں تاکہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
Share this content:


