بلوچستان میں پاکستانی فورسز پر مہلک حملے،میجر سمیت 11 اہلکار ہلاک، معدنیات کے متعدد گاڑیاں تباہ

بلوچستان کے مختلف علاقوںمیں پاکستانی فورسز پر مہلک حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس میں میجر سمیت 11 اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا جارہا ہے جبکہ گوادر، زامران اور ڈیرہ بگٹی اور مستونگ میں مزید دھماکے بھی رپورٹ ہوئے ہیں جہاں معدنیات لے جانے والی متعدد گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے علاقے چمالنگ اور مستونگ میں پاکستانی فورسز پر دو مہلک حملے ہوئے ہیں جن میں ایک میجر سمیت 11 اہلکار ہلاک ہو ئے ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق چمالنگ میں ایک فوجی آپریشن کے دوران بارودی سرنگ (IED) دھماکے میں پاکستانی فوج کے کم از کم 5 اہلکار ہلاک ہوگئے جن میں میجر رینک کے افسر میجر توقیف احمد بھٹی بھی شامل ہیں۔

ایک علیحدہ واقعے میں ضلع مستونگ کے علاقے شیخواسل میں معدنیات لے جانے والے تقریباً 20 بھاری گاڑیوں پر مشتمل قافلے پر بھاری اسلحے سے لیس حملہ آوروں نے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں متعدد گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔

ذرائع کے مطابق قافلے کی سیکیورٹی پر مامور کم از کم 6 پاکستانی فوجی اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔

ادھر گوادر اور زامران میں گذشتہ روز ایف سی اور پولیس کو نامعلوم افراد نے IED اور کریکر بم دھماکوں کے ذریعے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 2 اہلکار زخمی ہوئے۔

گوادر کے علاقے فقیر کالونی میں پولیس کی پیٹرولنگ موٹر سائیکل پر کریکر بم سے حملہ کیا گیا، جس میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا۔

دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کردیئے۔

ضلع کچ کے علاقے نوانو زامران میں ایف سی کی روڈ کلیرنس ٹیم سوئیپ سرچنگ میں مصروف تھی کہ IED دھماکے میں ایک اہلکار حسنین زخمی ہوگیا۔

ضلع ڈیرہ بگٹی کے علاقے پیر کوہ میں سڑک کنارے نصب بم پھٹنے سے امن فورس کے دو اہلکار زخمی ہوگئے۔

پولیس کے مطابق دھماکے کے بعد زخمیوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا جبکہ مزید کارروائی جاری ہے۔

امن فورس کو ایک ایسی علاقائی ملیشیا قرار دیا جاتا ہے جو ریاستی سرپرستی میں بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور بلوچ نسل کشی میں معاونت کے الزامات کا سامنا کرتی ہے۔

اب تک واقعے کی ذمہ داری بھی کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔

ان واقعات کے حوالے سے پاکستانی حکام کی جانب سے تاحال کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔

Share this content: