ضلع کوٹلی: مدرسے سے بھاگنے والے بچے کی لاش کھائی سے برآمد

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع کوٹلی کی تحصیل سہنسہ میں مدرسے سے بھاگنے والے 2 بھائیوں میں سے ایک کی لاش کھائی سے برآمدہوئی ہے۔

اس افسوسناک واقعہ نے مدارس میں زیر تعلیم کم عمر بچوں کے تحفظ، نگرانی اور مبینہ تشدد کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جہاں مدرسے سے بھاگنے والے دو بھائیوں میں سے ایک بچے کی لاش کھائی سے برآمد ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق 10 مئی 2026 کو تحصیل سہنسہ کے علاقے تڑالہ میں قائم مدرسہ “مدرسہ تعلیم القرآن” کے دو کم عمر طالب علم، اویس اور فرحان، علی الصبح تقریباً پانچ بجے مدرسے سے فرار ہو کر گھر کی جانب آ رہے تھے۔ اہل خانہ کے مطابق دونوں بچے گزشتہ آٹھ ماہ سے مدرسے میں زیر تعلیم تھے۔

راستے میں کتوں کے بھونکنے سے دونوں بچے خوفزدہ ہو گئے اور اسی دوران فرحان اپنے بھائی ادریس سے بچھڑ گیا۔ ادریس کسی نہ کسی طرح گھر پہنچ گیا اور اہل خانہ کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا۔ ورثا نے ابتدائی طور پر رشتہ داروں اور قریبی علاقوں میں بچے کی تلاش شروع کی تاہم فرحان کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔

اہل خانہ دو روز تک اپنی مدد آپ کے تحت تلاش کرتے رہے جبکہ واقعے کی اطلاع پولیس کو 11 مئی 2026 کو دی گئی۔

پولیس حکام کے مطابق 12 مئی کو تقریباً صبح آٹھ بجے فرحان کی لاش ایک کھائی سے برآمد ہوئی۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں بھائی اس سے قبل بھی متعدد بار مدرسے سے بھاگ چکے تھے، جس کے بعد یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا خطے کے مدارس میں بڑھتا ہوا مبینہ تشدد، سخت ماحول اور نگرانی کا فقدان طلبہ کو فرار ہونے پر مجبور کر رہا ہے یا اس کے پیچھے دیگر عوامل بھی کارفرما ہیں۔

یہ پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل بھی پاکستان زیر انتظام کشمیر کے ضلع باغ میں مدارس سے ایک درجن کے قریب طلبہ لاپتہ ہونے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں جن میں سے بعض بچوں کا تاحال سراغ نہیں مل سکا۔

حالیہ واقعے کے بعد یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ متعلقہ مدرسے میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب نہیں تھے۔ پولیس حکام کے مطابق مدرسے کے اندر نگرانی کے مؤثر انتظامات موجود نہیں تھے، حالانکہ گزشتہ ماہ کوٹلی میں مدرسے سے متعلق ایک اور واقعے کے بعد وزیر مذہبی امور و اوقاف نے تمام مدارس کے کلاس رومز، راہداریوں، دفاتر اور صحنوں میں معیاری سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کی پالیسی کا اعلان کیا تھا۔

تاہم زمینی حقائق اس پالیسی پر عمل درآمد نہ ہونے کی نشاندہی کر رہے ہیں، جس کے باعث بچوں کے تحفظ اور مدارس کے اندرونی ماحول پر مزید سوالات جنم لے رہے ہیں۔

سماجی حلقوں، والدین اور انسانی حقوق کے کارکنان نے واقعے کی شفاف تحقیقات، ذمہ داران کے تعین اور مدارس میں بچوں کے تحفظ کے لیے مؤثر نگرانی کے نظام کا مطالبہ کیا ہے۔

Share this content: