پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پونچھ کا ایک نوجوان لاپتہ ہوگیا ہے جبکہ دوسری جانب انڈین فوج نے کہا ہے کہ کرشنا گھاٹی سیکٹر میں 300 میٹر اندر ’ ’مشکوک نقل و حرکت‘‘ دیکھنے کے بعد کارروائی کے دوران ایک درانداز کو ماردیاگیا ہے ۔
دراندازی میں مارے جانے والے شخص کی شناخت تاحال انڈین میڈیا میں ظاہر نہیں کی گئی ہے۔
ادھر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع پونچھ کے ایل او سی بٹل سیکٹر کے گاؤں چوکی سے گزشتہ روز لاپتہ ہونے والے نوجوان چوہدری عامر کے اہلخانہ نے واقعے کی مکمل تحقیقات اور لاش کی حوالگی کا مطالبہ کر دیا ہے۔
لاپتہ نوجوان کے والد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عامر گزشتہ روز دن تقریباً گیارہ بجے سے گھر سے غائب ہے۔
ان کے مطابق واقعے کے فوری بعد پاکستانی افواج اور پولیس حکام کو اطلاع دی گئی، تاہم تاحال عامر کے حوالے سے کوئی مصدقہ معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔
عامر کے والد کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ عامر کو لائن آف کنٹرول عبور کرتے ہوئے مار دیا گیا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ایسا ہوا تو عامر کو ایل او سی کس نے کراس کروائی؟ اس سے کیا بات ہوئی؟ اور اسے فون کر کے گھر سے کس نے بلوایا؟
انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور تمام حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔
اہلخانہ نے چوہدری عامر کی لاش کی حوالگی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
متاثرہ خاندان نے احتجاج کی کال دیتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب انڈین میڈیا نے سیکورٹی حکام کے حوالے سے اس واقعے کو رپورٹ کیا ہے کہ انڈین فوج نے پونچھ کے کرشنا گھاٹی سیکٹر میں ایک ’’درانداز‘‘ کو مار دیا ہے۔
میڈیا کے مطابق فوج نے کرشنا گھاٹی سیکٹر میں ’’مشکوک نقل و حرکت‘‘ دیکھنے کے بعد کارروائی کی اور درانداز کو ماردیاگیا لیکن اس کی کوئی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔
بھارتی فوج کے وائٹ نائٹ کور نے کہا کہ 300 میٹر اندر ’’ایک گھسپیٹھیا‘‘ مارا گیااور کہا گیا کہ یہ آپریشن سندور کے بعد پہلی دراندازی کی کوشش تھی۔
Share this content:


