عوامی ایکشن کمیٹی نے حکومت کو 31 مئی کی ڈیڈ لائن دیدی، 9 جون کو لانگ مارچ اور لاک ڈاؤن کا اعلان

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) نے دو روزہ اجلاس کے بعد حکومتِ آزاد جموں و کشمیر کو 31 مئی 2026 تک آئینی و انتخابی اصلاحات پر پیش رفت کے لیے ڈیڈ لائن دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں 9 جون 2026 کو لانگ مارچ اور پورے خطے میں غیر معینہ مدت کے لاک ڈاؤن کا آغاز کیا جائے گا۔

اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ کمیٹی کی کور ٹیم نے آزاد کشمیر میں شفاف، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے فوری آئینی و انتخابی اصلاحات کو ناگزیر قرار دیا ہے۔

کمیٹی کے مطابق 4 اکتوبر 2025 کے معاہدے پر عملدرآمد اور مہاجرین مقیم پاکستان کے نام پر قائم 12 متنازع نشستوں کے خاتمے کے بغیر انتخابات کرانا “عوامی مینڈیٹ سے انحراف” ہوگا۔

اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ JAAC جمہوری عمل کے خلاف نہیں، تاہم موجودہ انتخابی ڈھانچے میں “غیر منصفانہ نمائندگی” کے ذریعے عوامی رائے پر اثرانداز ہونے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں آزاد الیکشن کمیشن کے قیام، آبادی کے تناسب سے نئی حلقہ بندیوں اور دیگر اصلاحات کا مطالبہ دہرایا گیا۔

کمیٹی نے کہا کہ وہ 4 اکتوبر 2025 کے معاہدے اور چارٹر آف ڈیمانڈ پر عملدرآمد کے لیے حکومتی مانیٹرنگ اینڈ امپلیمنٹیشن کمیٹی سے مذاکرات جاری رکھے گی، تاہم ڈیڈ لائن کے بعد “کسی بھی اخلاقی ذمہ داری کی پابند نہیں رہے گی۔”

اعلامیے کے مطابق 9 جون کو بھمبر اور میرپور سے لانگ مارچ کا آغاز ہوگا جو مظفرآباد پہنچ کر قانون ساز اسمبلی کے سامنے دھرنے میں تبدیل ہو جائے گا، جبکہ اس دوران پورے آزاد کشمیر میں غیر معینہ مدت کا لاک ڈاؤن بھی کیا جائے گا۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ لانگ مارچ کی تیاری کے لیے پیشگی انتظامات کریں۔

مزید برآں، JAAC نے عوامی رابطہ مہم شروع کرنے، مختلف اضلاع میں وارڈ کمیٹیاں فعال بنانے اور “حقِ ملکیت و حقِ حکمرانی” کے عنوان سے کانفرنسز منعقد کرنے کا اعلان بھی کیا۔ اوورسیز کشمیریوں سے بھی لانگ مارچ میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی گئی۔

اعلامیے میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں گرفتار کارکنوں اور رہنماؤں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا، جبکہ کور ممبر شوکت نواز میر کے خلاف درج مقدمے کو “آزادی اظہار پر قدغن” قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی گئی۔

تعلیمی شعبے سے متعلق کمیٹی نے مظفرآباد اور پونچھ ڈویژنز کے لیے نئے تعلیمی بورڈز کے قیام کا خیرمقدم کیا، تاہم خدشہ ظاہر کیا کہ ان کے اخراجات پورے کرنے کے لیے میرپور تعلیمی بورڈ کے وسائل منتقل کرنے کی کوشش علاقائی تقسیم کو بڑھا سکتی ہے۔

آخر میں JAAC نے حکومت کو متنبہ کیا کہ محکمہ برقیات کے لیے مختص 10 ارب روپے کی گرانٹ کو شفاف اور میرٹ پر استعمال کیا جائے، بصورت دیگر عوامی ردعمل سامنے آئے گا۔

Share this content: