مقبوضہ علاقوں کی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے جہاں اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے پیر کے روز ایک انتہائی متنازع قانون منظور کر لیا ہے۔ اس قانون کے تحت فوجی عدالتوں میں مہلک حملوں کے مرتکب قرار دیے گئے فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کو بطور ڈیفالٹ سزا مقرر کیا گیا ہے۔
قانون کی منظوری کے بعد انسانی حقوق کے حلقوں اور مبصرین میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قانون کے نتیجے میں فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہو جائے گا، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
قانون کے متن پر تنقید کرتے ہوئے مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کا اطلاق مخصوص شرائط کے تحت کیا جائے گا، جن میں ایسے حملے شامل ہیں جنہیں “اسرائیل کے وجود کے خاتمے” کی نیت سے جوڑا جائے۔ ناقدین کے مطابق یہ تعریف مبہم ہے اور اس کا اطلاق بنیادی طور پر فلسطینیوں تک محدود رکھا جا سکتا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں اس قانون کو امتیازی قرار دے رہی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگرچہ اسے بظاہر دہشت گردی کے خلاف اقدام کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، تاہم عملی طور پر اس کا نشانہ صرف فلسطینی بن سکتے ہیں، جبکہ اسی نوعیت کے جرائم میں ملوث یہودی اسرائیلیوں پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قانون کی منظوری نہ صرف بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں سے متصادم ہو سکتی ہے بلکہ یہ مقبوضہ فلسطینی علاقے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بھڑکا سکتی ہے۔
دوسری جانب فلسطینی قیادت اور مختلف مزاحمتی و سیاسی گروہوں نے اس قانون کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے “نسلی امتیاز” اور “اجتماعی سزا” کی ایک شکل قرار دیا ہے، اور عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں سکیورٹی صورتحال پہلے ہی نازک ہے، اور اس قسم کے اقدامات مستقبل میں مزید تصادم اور عدم استحکام کو جنم دے سکتے ہیں۔
Share this content:


