پاکستانی کشمیر میں سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ، ایکشن کمیٹی نے حکومتی دعوؤں کو چیلنج کر دیا

پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں سیاسی درجہ حرارت ایک بار پھر بڑھنے لگا ہے، جہاں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) نے حکومت کے دعوؤں کو کھل کر چیلنج کرتے ہوئے خطے میں نئی سیاسی ہلچل پیدا کر دی ہے۔

JAAC کے کور ممبر امتیاز اسلم نے اپنے تازہ بیان میں حکومت کی مانیٹرنگ اینڈ امپلیمنٹیشن کمیٹی کی کارکردگی پر شدید سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف سیکرٹری آفس میں جمع کروایا گیا سرکاری ڈیش بورڈ خود حکومتی بیانیے کی نفی کر رہا ہے۔

امتیاز اسلم کے مطابق حکومت کی جانب سے 98 فیصد عملدرآمد کا دعویٰ “محض دھوکہ” ہے، جبکہ حقیقت میں طے شدہ معاہدے پر پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری مؤقف زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ڈیش بورڈ میں موجود تفصیلات کا خود جائزہ لیں اور حکمرانوں کی دیانتداری کا اندازہ کریں۔ ان کے مطابق اب وقت آ چکا ہے کہ عوام سچ اور جھوٹ میں فرق کریں اور اپنے حقوق کے لیے واضح اور مضبوط مؤقف اپنائیں۔

امتیاز اسلم نے اعلان کیا کہ بھمبر سے مظفرآباد اسمبلی سیکرٹریٹ تک لانگ مارچ اور غیر معینہ مدت کے دھرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں منظم ہو کر اس تحریک کا حصہ بنیں، کیونکہ یہ جدوجہد عوامی حقوق کے حصول کی جنگ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مرحلے پر ہر فرد کا کردار اہم ہے اور بالآخر “عوامی طاقت ہی فیصلہ کرے گی”۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں پہلے ہی انتخابی اصلاحات، سیاسی مقدمات اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید کے باعث کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

Share this content: