امن مذاکرات : امریکی و ایرانی کے وفود پاکستان پہنچ گئے

امریکہ اور ایران کے وفود دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے بعد امن مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔

پاکستانی حکام کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کا پہلا دور آج متوقع ہے۔

کئی ہفتوں کی قیاس آرائیوں کے بعد، اسلام آباد میں مذاکرات کے آغاز کے آثار واضح ہو گئے ہیں۔

آدھی رات کے کچھ ہی دیر بعد پاکستانی جنگی طیاروں کی گرج دار آوازیں شہر کی فضا میں گونجتی رہیں، جب وہ ایرانی وفد کے طیارے پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد اُن کے ہمراہ اسلام آباد تک آئے۔

ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، جبکہ ان کے ہمراہ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی بھی موجود ہیں۔

وفد کا ایئرپورٹ پر استقبال پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور آرمی چیف نے کیا۔

محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر طیارے کے اندر کی تصاویر بھی شیئر کیں، جن میں نشستوں پر رکھے ہوئے سکول بیگ اور ان طالبات کی تصاویر دکھائی گئی ہیں جو جنگ کے پہلے روز فضائی حملے میں ہلاک ہوئیں۔

دوسری جانب امریکہ کی نمائندگی کرتے ہوئے جے ڈی وینس بھی اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔

مذاکرات کی اہمیت غیر معمولی ہے اور دونوں ممالک کے مؤقف میں واضح فرق موجود ہے۔ دونوں فریقوں کو اسلام آباد لانا پہلا بڑا مرحلہ تھا، تاہم یہ آخری رکاوٹ نہیں ہوگی۔

امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات اور اہم وفود کی شہر میں آمد کے بعد سے سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے شدہ امن مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ ’نیک نیتی کے ساتھ‘ میں شامل ہوں۔

جمعہ کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، سیکریٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن ڈوجارک نے کہا کہ گوتریس نے فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک پائیدار اور جامع معاہدے کی جانب نیک نیتی سے کام کریں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ سیکریٹری جنرل اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ بین الاقوامی قوانین بشمول اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق بین الاقوامی تنازعات کے پرامن حل کا کوئی قابل عمل متبادل نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ گوتریس کے ایلچی سفارتی کوششوں کی حمایت کے لیے خطے میں موجود ہیں۔

Share this content: