مظفرآباد : مدارس میں بچوں کے تحفظ کے لیے جامع پالیسی متعارف

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکومت نے جمعرات کے روز مدارس میں زیرِ تعلیم بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع پالیسی متعارف کروا دی ہے، جس کے تحت ریاست بھر کے مذہبی تعلیمی اداروں میں نگرانی، احتساب اور شفافیت کے نئے اقدامات لازمی قرار دے دیے گئے ہیں۔

وزیر برائے مذہبی امور، اوقاف و اطلاعات چوہدری محمد رفیق نیئر کی جانب سے اعلان کردہ اس پالیسی پر وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور کی ہدایات کی روشنی میں عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام حالیہ دنوں میں مذہبی اداروں میں بچوں کے تحفظ سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کے پیشِ نظر سامنے آیا ہے۔

نئی پالیسی کے مطابق تمام مدارس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کلاس رومز، راہداریوں، صحن، دفاتر اور دیگر اہم مقامات پر معیاری سی سی ٹی وی کیمرے نصب کریں، جن کی ریکارڈنگ کم از کم 30 دن تک محفوظ رکھی جائے گی۔

اس کے ساتھ طلباء کے حقوق، اساتذہ اور عملے کے لیے ضابطہ اخلاق بھی واضح طور پر مرتب کیا گیا ہے، جس میں ممنوعہ رویوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ تمام ملازمین کے لیے اس ضابطہ اخلاق کی تحریری منظوری لازمی ہوگی۔

شکایات کے اندراج کے لیے ہر مدرسے میں خفیہ کمپلینٹ باکسز نصب کیے جائیں گے، جن تک رسائی صرف ضلعی انتظامیہ کے مجاز افسران کو حاصل ہوگی۔ یہ افسران باقاعدگی سے شکایات کا جائزہ لے کر متاثرہ افراد کی شناخت کو خفیہ رکھتے ہوئے فوری کارروائی یقینی بنائیں گے۔

پالیسی کے تحت طلباء کے سرپرائز طبی معائنے بھی کیے جائیں گے، جن کے لیے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز کی سربراہی میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی۔ کسی بھی مشتبہ کیس کی فوری رپورٹنگ کے ساتھ متاثرہ بچوں کو طبی اور نفسیاتی معاونت فراہم کی جائے گی۔

مزید برآں، تمام اساتذہ اور قرآن کے مدرسین کے لیے مستند اداروں سے تدریسی اسناد حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ تقرری سے قبل ان کے کردار، اسناد اور ماضی کے ریکارڈ کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے گی۔

وزیر نے واضح کیا کہ پالیسی پر عملدرآمد کی نگرانی ضلعی انتظامیہ، محکمہ تعلیم اور محکمہ مذہبی امور مشترکہ طور پر کریں گے، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ مدرسے کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے، جس میں رجسٹریشن کی معطلی یا منسوخی بھی شامل ہے۔

یہ پالیسی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اتوار کے روز ضلع کوٹلی میں ایک مدرسے کے طالب علم کے ساتھ مبینہ زیادتی اور ہلاکت کے افسوسناک واقعے نے عوامی سطح پر شدید تشویش کو جنم دیا۔ اس واقعے نے مذہبی اداروں میں نگرانی اور بچوں کے تحفظ کے موجودہ نظام میں سنگین خامیوں کو بے نقاب کیا اور ایک مؤثر اور مربوط حفاظتی فریم ورک کی فوری ضرورت کو اجاگر کیا۔

چوہدری محمد رفیق نیئر نے اس اقدام کو بچوں کے تحفظ، مذہبی تعلیم کے معیار میں بہتری اور مدارس کے نظام میں شفافیت کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔

Share this content: