پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ماحولیاتی بہتری اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے پیش نظر شہری تیزی سے الیکٹرک سکوٹرز کی جانب راغب ہو رہے ہیں۔
دارالحکومت مظفرآباد بھی اس بدلتے رجحان سے مستثنیٰ نہیں، مگر یہاں بنیادی سہولیات کی کمی اس نئے ٹرانسپورٹ ماڈل کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔
مظفرآباد میں الیکٹرک بائیکس اور سکوٹرز استعمال کرنے والے افراد اس وقت اپنی سواریوں کو گھروں میں چارج کرنے پر مجبور ہیں۔
بیشتر علاقوں میں لوڈشیڈنگ، وولٹیج کے مسائل اور محدود جگہ جیسے عوامل اس عمل کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ طویل فاصلے طے کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ہنگامی حالات میں بیٹری ختم ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔اپارٹمنٹس یا کرائے کے گھروں میں چارجنگ مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔
دنیا بھر میں جہاں بڑے شہروں میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چارجنگ نیٹ ورک تیزی سے پھیل رہا ہے، وہیں مظفرآباد جیسے اہم شہر میں ایک بھی باقاعدہ پبلک چارجنگ اسٹیشن موجود نہیں۔
ماہرین کے مطابق چارجنگ انفراسٹرکچر کے بغیر الیکٹرک ٹرانسپورٹ کا فروغ محدود رہتا ہے۔
Share this content:


