کشمیر میں آل پارٹیز کانفرنس: مہاجرین کی نشستوں سے متعلق فیصلہ اسمبلی پر چھوڑدیا گیا

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مہاجرین نشستوں سے متعلق جاری تنازع کے تناظر میں وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور اور قائدِ حزبِ اختلاف کی میزبانی میں منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔

آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے میڈیا کے سامنے پڑھ کر سنایا۔

اعلامیے میں کہا گیا:
"آج کے کل جماعتی اجلاس میں شامل سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین نے متفقہ طور پر درج ذیل قرارداد منظور کی۔

اس اجلاس میں شرکت کے لیے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے قائدین کو بھی دعوت دی گئی تھی، تاہم انتظار کے باوجود وہ اس مشاورتی اور جمہوری عمل کا حصہ نہیں بنے۔”

اعلامیے کے مطابق:
☆ یہ اجلاس جموں و کشمیر کے عوام کی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے جاری جائز جدوجہد کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔

اجلاس بھارت کے زیرِانتظام جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جبر و استبداد اور مظالم کی شدید مذمت کرتا ہے۔ نیز حریت قیادت اور سیاسی کارکنان کی غیر قانونی نظربندی اور قید کو بھی قابلِ مذمت قرار دیتا ہے اور جموں و کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی بھارتی کوششوں کی مذمت کرتا ہے۔

یہ اجلاس آزاد جموں و کشمیر میں جاری جمہوری تسلسل اور آئینی عمل کے استحکام کو ریاستی استحکام کی بنیاد قرار دیتا ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ جمہوری اداروں کو مزید مضبوط اور فعال بنایا جائے گا۔

اجلاس اس بات پر زور دیتا ہے کہ سیاسی اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، تاہم اسے ریاستی نظم و نسق یا ادارہ جاتی عمل کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ مزید برآں، اجلاس تمام سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں پر زور دیتا ہے کہ وہ برداشت، مکالمے اور پُرامن سیاسی جدوجہد کو فروغ دیں تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم رہے۔

یہ اجلاس آزاد جموں و کشمیر میں قومی سلامتی کے اداروں کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور انہیں ریاستی استحکام کا اہم ستون قرار دیتا ہے۔ اجلاس اس امر پر تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ بھارت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور منظم پروپیگنڈے کے ذریعے ریاستی اداروں اور جمہوری ڈھانچے کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے اور اعتماد کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو کسی صورت قابلِ برداشت نہیں۔

یہ اجلاس قرار دیتا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات آئین اور قانون کے مطابق مقررہ مدت میں منعقد کیے جائیں گے۔ آزادانہ، منصفانہ، شفاف، غیر جانبدارانہ اور پُرامن انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری انتظامی، قانونی اور سیکیورٹی اقدامات بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ عوام بلا خوف و خطر، دباؤ یا مداخلت کے اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کر سکیں۔ انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے، مؤخر کرنے، متاثر کرنے یا پٹڑی سے اتارنے کی کسی بھی کوشش کا قانون کے مطابق سختی سے سدباب کیا جائے گا تاکہ جمہوری عمل کا تسلسل برقرار رہے۔

یہ اجلاس مہاجرینِ جموں و کشمیر کی تحریکِ آزادیٔ کشمیر اور تحریکِ تکمیلِ پاکستان کے لیے دی جانے والی لازوال قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے۔ اجلاس اس امر کو تسلیم کرتا ہے کہ مہاجرینِ مقیم پاکستان کی نمائندگی ایک تاریخی اور آئینی حقیقت ہے، تاہم بعض انتخابی پیچیدگیوں کو دور کرنے اور سیاسی جماعتوں کے لیے قابلِ قبول بنانے کے لیے ضروری اصلاحات آئین کے مطابق قانون ساز اسمبلی کے ذریعے عمل میں لائی جا سکتی ہیں۔

یہ اجلاس قرار دیتا ہے کہ آئینی اصلاحات عوام کے منتخب نمائندوں کا خصوصی اختیار اور مینڈیٹ ہیں، لہٰذا ایسی اصلاحات کا معاملہ قانون ساز اسمبلی پر چھوڑا جائے۔ تاہم اس سے قبل تمام متعلقہ فریقین، بشمول سیاسی جماعتوں، بار ایسوسی ایشنز، بار کونسل، سول سوسائٹی اور آئینی ماہرین کی مشاورت سے ایک وسیع البنیاد مشاورتی عمل شروع کیا جائے۔

آل پارٹیز کانفرنس تقریباً پانچ گھنٹے جاری رہی، جس میں 12 سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اور چار سابق وزرائے اعظم نے شرکت کی۔ اجلاس میں مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی نمائندگی موجود تھی۔

آل پارٹیز کانفرنس کی تجویز اس وقت سامنے آئی تھی جب 30 مئی کو جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی، حکومتِ پاکستان اور حکومتِ آزاد کشمیر کے درمیان ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔
مذاکراتی عمل کے اختتام پر وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا:
"حکومتِ آزاد کشمیر اور اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) نے فیصلہ کیا ہے کہ اس صورتحال اور عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات کے حوالے سے ایک آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے، جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے۔”

تاہم پاکستان تحریکِ انصاف سمیت متعدد قوم پرست جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ انہیں اس آل پارٹیز کانفرنس میں مدعو نہیں کیا گیا۔

Share this content: