وزیراعظم کے خلاف مبینہ نفرت انگیز مواد کی اشاعت پر ایکشن کمیٹی رہنما سمیت متعدد افراد پرمقدمہ درج

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں پولیس نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے کے جے اے اے سی) کے ایک کور ممبر سمیت متعدد افراد کے خلاف خطے کے وزیراعظم کے خلاف مبینہ نفرت انگیز اور ہتک آمیز مواد سوشل میڈیا پر شائع کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔ تاہم پولیس کی جانب سے تاحال نامزد افراد میں سے کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔

یہ ایف آئی آر ایسے وقت میں درج کی گئی ہے جب جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کی 12 مخصوص نشستوں کے خاتمے اور دیگر مطالبات کے حق میں 9 جون کو ریاست گیر پہیہ جام، شٹر ڈاؤن ہڑتال اور لانگ مارچ کی کال دے رکھی ہے۔

پولیس رپورٹ کے مطابق ضلع حویلی میں 31 مئی کو پیش آنے والے رکشہ حادثے، جس میں سات افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، کے فوراً بعد جے کے جے اے اے سی کے کور ممبر مرتضیٰ شریف میر سمیت دیگر چھ افراد نے سوشل میڈیا پر وزیراعظم اور دیگر اہم شخصیات کے خلاف مبینہ طور پر ہتک آمیز اور نفرت انگیز مواد شائع کیا۔

پولیس کا مؤقف ہے کہ مذکورہ مواد سے عوام میں اشتعال پھیلنے اور تشدد بھڑکنے کا خدشہ پیدا ہوا۔

ایف آئی آر میں شامل دیگر افراد ان چھ کارکنوں میں شامل ہیں جن کی قیادت میں 27 مئی کو عید کے روز خورشید آباد، ضلع حویلی میں ایک جلوس نکالا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق اس جلوس کے دوران نفرت انگیز تقاریر اور نازیبا زبان استعمال کی گئی۔ تاہم پولیس رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس جلوس میں جے کے جے اے اے سی کے کور ممبر مرتضیٰ شریف میر شریک نہیں تھے۔

پولیس کے مطابق مقدمے میں نامزد تمام افراد کا تعلق ضلع حویلی سے ہے۔

دوسری جانب جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے تاحال ایف آئی آر کے اندراج پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم تنظیم پہلے ہی مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے خاتمے سمیت اپنے دیگر مطالبات کے حق میں 9 جون کو آزاد کشمیر بھر میں احتجاجی ہڑتال اور لانگ مارچ کا اعلان کر چکی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق احتجاجی کال سے چند روز قبل مقدمے کے اندراج نے خطے کی سیاسی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے اور آئندہ دنوں میں اس معاملے پر حکومتی اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Share this content: