مظفرآباد آل پارٹیز کانفرنس اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جدوجہد

تحریر: خواجہ کبیر احمد

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے شہر اقتدار مظفرآباد میں منعقد ہونے والی ایمرجنسی آل پارٹیز کانفرنس کو اس کے شرکاء نے خواہ کتنے ہی خوشنما الفاظ میں پیش کرنے کی کوشش کی ہو، لیکن زمینی حقائق کا سامنا کرتے ہوئے اسے عوامی مفادات کے بجائے سیاسی مفادات کے تحفظ کی کانفرنس قرار دینا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ اس کانفرنس کا اعلامیہ پڑھنے کے بعد پہلا سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ سیاسی جماعتیں جو گزشتہ کئی دہائیوں سے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھی رہیں، عوامی وسائل کی نگران بھی رہیں اور فیصلوں کی مالک بھی، آج عوامی حقوق کے لیے اٹھنے والی ایک غیر جماعتی تحریک کو نصیحتیں دینے کی اخلاقی حیثیت کیسے رکھتی ہیں؟

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک کسی انتخابی موسم کی پیداوار نہیں۔ یہ تحریک گزشتہ تین برسوں سے عوام کو درپیش حقیقی مسائل کے گرد منظم ہوئی۔ مہنگی بجلی، غیر منصفانہ ٹیکسوں، آٹے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے، ریاستی وسائل پر عوام کے حق اور بہتر طرز حکمرانی کے مطالبات اس تحریک کا بنیادی ایجنڈا رہے ہیں۔ یہ وہ مسائل ہیں جن کا سامنا روزانہ عام شہری کرتا ہے، نہ کہ وہ سیاسی اشرافیہ جو سرکاری مراعات، پروٹوکول اور اقتدار کے حصار میں زندگی گزارتی ہے۔

آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیے میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ عوامی مطالبات بڑی حد تک پورے ہو چکے ہیں اور اب مزید احتجاج کی کوئی گنجائش باقی نہیں۔ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے چارٹر آف ڈیمانڈ کے وہ نکات کہاں نافذ ہوئے جن پر مذاکرات کے دوران اتفاق رائے پیدا ہوا تھا؟ عوام کو آج بھی بار بار دیے گئے وعدے یاد ہیں، انہیں یہ بھی یاد ہے کہ کس طرح ہر بحران کے وقت مذاکرات کی میز سجائی گئی، اعلانات کیے گئے، یقین دہانیاں کرائی گئیں اور حالات معمول پر آتے ہی انہی وعدوں کو پس پشت ڈال دیا گیا۔

سیاسی جماعتوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی غلط ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس نے عوام کو سیاسی جماعتوں کے روایتی دائرہ اثر سے باہر نکال کر اپنے مسائل پر متحد کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی عوامی حقوق کی کوئی غیر جماعتی تحریک مضبوط ہوتی ہے تو اقتدار کے مراکز میں بے چینی پیدا ہو جاتی ہے۔ پھر کبھی اسے بیرونی ایجنڈا قرار دیا جاتا ہے، کبھی انتشار پسند کہا جاتا ہے اور کبھی جمہوری عمل کے لیے خطرہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

نو جون کا اعلان کردہ شٹر ڈاؤن، پہیہ جام اور قانون ساز اسمبلی کے سامنے دھرنا کسی اچانک پیدا ہونے والی صورتحال کا نتیجہ نہیں بلکہ مسلسل وعدہ خلافیوں، عوامی مسائل سے چشم پوشی اور حکومتی بے حسی کا منطقی ردعمل ہے۔ اگر عوام کے مسائل واقعی حل ہو چکے ہوتے تو کسی اپیل کے بغیر ہی سڑکیں معمول کے مطابق آباد ہوتیں۔ عوام احتجاج اس وقت کرتے ہیں جب انہیں محسوس ہو کہ ان کی آواز اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنا بند ہو گئی ہے۔

اس کانفرنس کے پس منظر کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ ایسے وقت میں جب عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر ایک بڑے عوامی اجتماع اور احتجاج کی تیاری ہو رہی ہے، تمام روایتی سیاسی قوتوں کا یکجا ہو جانا محض اتفاق نہیں ۔ یہ اجتماع دراصل عوامی دباؤ کے مقابل ایک سیاسی صف بندی کا تاثر دیتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اصل تشویش عوامی مسائل نہیں بلکہ وہ سیاسی حیثیت، انتخابی اثر و رسوخ اور مراعات ہیں جو ایک طاقتور عوامی تحریک کے ابھرنے سے خطرے میں ہیں۔

جمہوریت کا حسن اختلاف رائے میں ہے، لیکن جمہوریت کا سب سے بڑا اصول یہ بھی ہے کہ عوام کی آواز کو سنا جائے۔ اگر لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکلنے کو تیار ہیں تو دانشمندی کا تقاضا یہ نہیں کہ انہیں بدنام کیا جائے بلکہ یہ ہے کہ ان کے مطالبات کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ سیاسی جماعتوں کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ عوام اب محض انتخابی جلسوں کے ہجوم نہیں رہے بلکہ اپنے حقوق، وسائل اور مستقبل کے بارے میں سوال اٹھانے والے باشعور شہری بن چکے ہیں۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام مطالبات سے اختلاف آپ کا حق ہے، ان پر بحث کی جا سکتی ہے، مگر انہیں محض سیاسی پروپیگنڈے کے ذریعے مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ اصل امتحان حکومت اور سیاسی جماعتوں کا یہ ہے کہ وہ اپنے کیے ہوئے وعدوں پر کتنا عمل کرتی ہیں اور عوام کے سامنے کتنی جوابدہی پیش کرتی ہیں۔

وقت کی سنجیدہ پکار یہ ہے کہ بالادست قوتیں اور حکومت عوامی جذبات کو سمجھیں، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے تسلیم شدہ چارٹر آف ڈیمانڈ پر فوری اور مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور عوام دشمن پالیسیوں اور مسلسل وعدہ خلافیوں کا سلسلہ بند کریں۔ کیونکہ عوامی مسائل کو وقتی اعلانات سے دبایا جا سکتا ہے مگر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ جب عوام اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہوں تو طاقتور سے طاقتور سیاسی اتحاد بھی ان کی آواز کو زیادہ دیر تک خاموش نہیں رکھ سکتا۔ اور پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے عوام اب اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

***

Share this content: