بلوچستان میں ایک ہی روز سیکورٹی فورسز پرتین حملوں میں 11 اہلکار ہلاک

بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس پر ہونے والے تین الگ الگ حملوں میں کم از کم 11 اہلکار ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے، جس کے بعد بلوچستان میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

خضدار کے علاقے باغبانہ باجوئی میں اس وقت فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جب پولیس ٹیم گھریلو چوری کے ملزمان کے تعاقب میں قائم خانزئی ایریا میں موجود تھی۔

اسی دوران دو نامعلوم مسلح افراد نے اچانک حملہ کردیا۔

فائرنگ کے نتیجے میں لیڈی کانسٹیبل اور پولیس اہلکار سمیع اللہ باجوئی موقع پر ہلاک ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل ایس ایچ او محمد ابراہیم شیخ زخمی ہوگئے۔

واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور مزید نفری طلب کرلی گئی۔

اسی روز مستونگ کے علاقے کنڈ مسوری میں مسلح افراد نے ایک پاکستانی فوجی کیمپ پر حملہ کیا، جس کے بعد علاقے میں شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق جھڑپ طویل رہی اور فورسز نے جوابی کارروائی کی۔

مستونگ ہی کے علاقے دشت کمبیلا میں بھی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جن میں سات فوجی اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

دوسری جانب کوئٹہ کے ڈغاری کراس پر مسلح افراد نے سیکیورٹی فورسز کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں دو اہلکار ہلاک ہوئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ گاڑیاں ایک ٹرین کی سیکیورٹی اسکواٹ کے طور پر گشت پر تھیں جب انہیں نشانہ بنایا گیا۔

ان حملوں کے حوالے سے حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جبکہ کسی تنظیم نے بھی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

Share this content: