حکومتی اے پی سی کے اعلامیے پر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا ردعمل

پاکستان زیرا نتظام کشمیر میں حکومتی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے اعلامیے پر ردعمل دیتے ہوئے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر شوکت نواز میر نے کہا ہے کہ انہیں اے پی سی کے اعلامیے سے کوئی حیرت نہیں ہوئی کیونکہ ماضی میں بھی اسی نوعیت کی کانفرنسیں منعقد ہوتی رہی ہیں۔

شوکت نواز میر نے کہا، "ہمیں ان کی آل پارٹیز کانفرنسوں کا 5 اگست 2019 سے لے کر آج تک کا طرزِ عمل معلوم ہے، یہ ہمارے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔”

انہوں نے سوال اٹھایا کہ "یہ کیسی آل پارٹیز ہیں؟ یہ آل پارٹیز اپنے مفادات کے لیے منعقد اور بلائی جاتی ہیں، اس لیے ہمیں اس سے کسی مثبت نتیجے کی امید بھی نہیں تھی۔”

کور ممبر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا کہنا تھا کہ حکومت اور سیاسی جماعتوں کے پاس مہاجرین کی بارہ نشستوں کے معاملے کو مسئلہ کشمیر سے جوڑنے کے لیے کوئی مضبوط قانونی یا اخلاقی جواز موجود نہیں تھا۔

انہوں نے کہا، "ان کے پاس کوئی ایسا قانونی جواز نہیں تھا جس کے اوپر وہ یہ مؤقف اختیار کرتے کہ ان بارہ نشستوں کا تعلق مسئلہ کشمیر سے ہے۔ جب آپ کے پاس اخلاقی اور قانونی جواز نہ ہو تو پھر اسی قسم کے اعلامیے جاری ہوتے ہیں۔”

واضح رہے کہ مہاجرین کی بارہ نشستوں کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کی میزبانی میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کے اختتام پر جاری اعلامیے میں ان نشستوں کو برقرار رکھنے اور ان کے حوالے سے متفقہ مؤقف اختیار کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، جس پر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے تحفظات کا اظہار کیا ۔

Share this content: