پاکستانی کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد کے نواحی علاقے پٹہکہ کے گاؤں گراں کٹلی بٹناڑہ میں نمبرداری نظام کے تحت مبینہ طور پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ متعدد متاثرین نے ایک بااثر نمبردار اور اس کے مبینہ گروہ پر اغوا، غیر قانونی حراست، بھتہ خوری اور تشدد جیسے الزامات عائد کیے ہیں۔
متاثرین میر زمان، عبداللطیف، عزیز الرحمن، عبدالرحمن، عبدالقیوم، محمد سلیمان، محمد حنیف اور محمد الیاس نے میڈیا کو بتایا کہ گاؤں میں ایک بااثر نمبردار نے اپنے گھر کو غیر قانونی طور پر “تھانہ” بنا رکھا ہے، جہاں مخالفین اور کمزور افراد کو حراست میں رکھا جاتا ہے۔
محمد حنیف کے مطابق انہیں اور ان کی بیٹی کو مبینہ طور پر آٹھ ماہ تک قید رکھا گیا، جہاں سے وہ مشکل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقدمہ درج ہونے کے باوجود ملزمان ضمانت پر رہا ہو گئے جبکہ متاثرین کو ہی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
میر زمان نے الزام لگایا کہ ان کی 13 سالہ بیٹی کو اغوا کر کے خیبر پختونخوا کے علاقے کوہستان بٹگرام منتقل کیا گیا، جہاں مبینہ طور پر اسے فروخت کر دیا گیا۔ متاثرہ خاندان نے دعویٰ کیا کہ وہ بچی کو 12 دن بعد واپس لانے میں کامیاب ہوئے، تاہم پولیس کی جانب سے مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔
دیگر متاثرین نے بھی دعویٰ کیا کہ لڑکیوں کو اغوا کر کے مختلف علاقوں میں لاکھوں روپے کے عوض فروخت کیا جاتا ہے اور اس پورے عمل میں ایک منظم نیٹ ورک سرگرم ہے۔
متاثرین کے مطابق مقدمات درج ہونے کے باوجود پولیس کارروائی کے بجائے صلح کے لیے دباؤ ڈالتی ہے۔ ایک کیس میں جرگہ کے ذریعے 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیے جانے کا بھی دعویٰ کیا گیا۔
متاثرین نے الزام لگایا کہ مقامی پولیس مبینہ طور پر ملزمان کی پشت پناہی کر رہی ہے، جس کے باعث علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے۔
اہل علاقہ کے مطابق گاؤں میں حالات اس حد تک خراب ہو چکے ہیں کہ بچوں کو مسجد میں تعلیم حاصل کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے جبکہ ایک ماہ سے مسجد کو تالے لگے ہوئے ہیں۔ بعض متاثرین نے گھروں پر حملوں، پتھراؤ اور طلاق کے لیے دباؤ جیسے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔
متاثرین نے وزیراعظم آزاد کشمیر، چیف سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور متاثرہ خاندانوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
نمبرداری نظام، جو ماضی میں دیہی انتظامی ڈھانچے کا حصہ رہا ہے، اب کئی علاقوں میں اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کی وجہ سے تنقید کی زد میں ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے واقعات ریاستی رٹ اور انصاف کے نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔
یہ رپورٹ متاثرین کے بیانات پر مبنی ہے، سرکاری موقف تاحال سامنے نہیں آیا۔
Share this content:


