پاکستانی کشمیر میں عوام نے انتخابی اصلاحات کا مطالبہ کردیا

پاکستان کے زیر انتظام آزاد جموں کشمیر میں شہری حقوق کے لیے سرگرم کارکن محمود مسافر نے انتخابی نظام میں اصلاحات کے لیے ایک تفصیلی درخواست الیکشن کمیشن میں جمع کرا دی ہے، جس میں موجودہ سیاسی ڈھانچے پر سخت تنقید اور متعدد اہم تجاویز پیش کی گئی ہیں۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی اپنی اصل روح کھو چکی ہے اور عوامی نمائندگی کے بجائے بااثر طبقات اور سرمایہ داروں کے مفادات کا مرکز بن گئی ہے۔

درخواست گزار کے مطابق رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں نے جمہوری عمل کو “یرغمال” بنا رکھا ہے۔سیاست کو ریاستی خدمت کے بجائے ذاتی مفاد کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ماضی کی اسمبلیوں میں بار بار وزرائے اعظم کی تبدیلی “جمہوری عدم استحکام” کی مثال ہے۔

انہوں نے 2006 اور 2021 کی اسمبلیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ارکان نے متعدد بار ووٹ دے کر وزرائے اعظم تبدیل کیے، جس سے نظام کی سنجیدگی پر سوال اٹھتے ہیں۔

درخواست میں موجودہ نظام کو عوامی مشکلات کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا۔عوام کو بنیادی ضروریات کے لیے جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے۔خودکشیوں اور معاشی دباؤ کے واقعات میں اضافہ ہوا۔

مزید کہا گیا کہ احتجاجی تحریکوں اور بدامنی کے باعث جانی و مالی نقصانات بھی ہوئے، جن میں درجنوں اموات، سینکڑوں زخمی اور اربوں روپے کا نقصان شامل ہے۔

محمود مسافر نے اپنی درخواست میں کئی اہم اصلاحات تجویز کی ہیں:

  1. سیاسی وابستگی کے لیے ضابطہ اخلاق
    پارٹی تبدیل کرنے والوں کے لیے کم از کم دو سال کی پابندی۔
    نئی جماعت میں شامل ہونے کے بعد پانچ سال تک مرکزی عہدہ نہ ملے۔
    ٹکٹ کے حصول کے لیے کم از کم دو سال پارٹی رکنیت لازمی ہو۔
    تمام امیدواروں کے لیے اثاثوں کی مکمل تفصیلات ظاہر کرنا ضروری ہو۔
    منشور پر عمل نہ کرنے کی صورت میں آئندہ الیکشن نہ لڑنے کا حلف۔
  2. ضمنی انتخابات کے اخراجات کی ذمہ داری
    جیتی ہوئی نشست چھوڑنے والے امیدوار کو ضمنی انتخاب کے اخراجات خود برداشت کرنے کی تجویز۔
    متبادل طور پر دوسرے نمبر پر آنے والے امیدوار کو کامیاب قرار دینے کی سفارش۔
    درخواست میں کہا گیا کہ ضمنی انتخابات پر خرچ ہونے والی خطیر رقم کو تعلیم اور پانی جیسے بنیادی منصوبوں پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔
  3. سیاسی جماعتوں کی کارکردگی کا احتساب
    جو جماعت 25 سال میں اپنے منشور پر عملدرآمد نہ کر سکے، اس کی رجسٹریشن منسوخ کی جائے۔
    ہر پارٹی کو دو سال کے اندر اندر اندرونی انتخابات کروانے کا پابند بنایا جائے۔

درخواست کے اختتام پر خبردار کیا گیا ہے کہ اگر بروقت اصلاحات نہ کی گئیں تو خطے میں مزید بدامنی اور شدید ردعمل جنم لے سکتا ہے۔

یہ درخواست ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں سیاسی استحکام، گورننس اور عوامی مسائل پر بحث تیز ہو رہی ہے۔ محمود مسافر کی جانب سے پیش کردہ تجاویز نہ صرف انتخابی نظام بلکہ مجموعی سیاسی کلچر میں تبدیلی کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن کمیشن اور متعلقہ ادارے ان تجاویز پر کس حد تک عملدرآمد کرتے ہیں اور آیا یہ مطالبات عملی اصلاحات کی شکل اختیار کر پاتے ہیں یا نہیں۔

Share this content: