جموں و کشمیر / کاشگل نیوزخصوصی رپورٹ
پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی احتجاجی تحریک کے دوران مختلف علاقوں سے گرفتاریوں، چھاپوں اور عوامی ردعمل کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
راولاکوٹ میں گزشتہ روز کھائیگلہ سے واپسی پر فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہونے والے شاہزیب حبیب کے جسد خاکی کو سی ایم ایچ گیٹ کے سامنے رکھ کر احتجاج جاری رہا۔
مظاہرین کی جانب سے احتجاج کے دوران پولیس کی شیلنگ کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ شاہزیب حبیب کی نماز جنازہ راولاکوٹ میں ادا کی جانی تھی، شاہ زیب کی نماز جنازہ شام چھ بجے صابر شہید اسٹیڈیم میں ادا کی جائے گی۔ جبکہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے گرد و نواح کے علاقوں سے کارکنان کو بڑی تعداد میں شرکت کی اپیل کی ہے۔
دوسری جانب مختلف شہروں اور دیہی علاقوں سے یہ اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایجنسیوں کے اہلکار مبینہ طور پر سول کپڑوں اور غیر سرکاری گاڑیوں میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق ایکشن کمیٹی سے وابستہ کارکنان اور متحرک ارکان کو حراست میں لینے کی کوششیں جاری ہیں۔
پلندری میں کچہری چوک احتجاجی کیمپ سے عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں عاطف حسین اور ناصر ستی کو پولیس کی جانب سے گرفتار کر کے لے جایا جا رہا تھا، تاہم مقامی شہریوں نے گاڑی روک کر دونوں رہنماؤں کو پولیس کی تحویل سے چھڑا لیا۔
عوامی ایکشن کمیٹی کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ گرفتاریوں اور کریک ڈاؤن کا مقصد عوام کو احتجاجی سرگرمیوں میں شرکت سے روکنا ہے، جبکہ مختلف علاقوں میں کارکنان کو متحد رہنے اور احتجاجی تحریک جاری رکھنے کی اپیلیں بھی کی جا رہی ہیں۔ ریاست بھر میں جاری صورتحال کے باعث سیاسی اور سماجی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے اور آنے والے دنوں میں احتجاجی سرگرمیوں میں مزید شدت آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
Share this content:


