ایرانی پارلیمان کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں کرے گا۔
ایکس پر اپنی پوسٹ میں انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ پر الزام لگایا کہ وہ جنگ بندی کی خلاف ورزی اور ناکہ بندی کے ذریعے مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے کی میز میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔
قالیباف نے مزید کہا کہ ایران نے پچھلے دو ہفتوں میں میدانِ جنگ میں نئے پتے لانے کی تیاری کی ہے۔
دوسری جانب ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے پاکستانی وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں کہا کہ ایران امریکہ کے حوالے سے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ اشتعال انگیز اقدامات، جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیاں، ایرانی تجارتی جہازوں کے خلاف دھمکیاں اور متضاد بیانات سفارتی عمل میں رکاوٹ ہیں۔
پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے تمام زیرِ التوا معاملات کے حل کے لیے مسلسل رابطے اور بات چیت کی اہمیت پر زور دیا، تاکہ خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔
دونوں وزرائے خارجہ نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
Share this content:


