مظفرآباد میں ریڑھی بان پر ظلم، میونسپل اہلکار پر مبینہ بھتہ خوری کا الزام

مظفرآباد/ نمائندہ خصوصی

پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں دریائے جہلم کے کنارے روزگار کرنے والے ایک محنت کش ریڑھی بان نے میونسپل کارپوریشن کے اہلکار پر مبینہ بھتہ خوری کا سنگین الزام عائد کیا ہے، جس کے بعد شہری حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

متاثرہ ریڑھی بان آفتاب بیگ کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ چند روز سے ذاتی صدمے کے باعث کام سے دور تھا، کیونکہ آٹھ روز قبل اس کے بھائی کا انتقال ہو گیا تھا۔ ان کے مطابق جب وہ دوبارہ روزگار شروع کرنے کے لیے منڈی سے سبزیاں اور پھل خرید کر لایا اور ریڑھی لگائی، تو میونسپل انتظامیہ کے اہلکاروں نے کارروائی کرتے ہوئے اس کی ریڑھی ہٹا دی۔

آفتاب بیگ نے الزام لگایا کہ میونسپل کارپوریشن کے ملازم بلال قریشی نے اس سے مبینہ طور پر بھتہ طلب کیا، اور انکار کی صورت میں اس کے خلاف کارروائی کی گئی۔

ریڑھی بان کے مطابق اس نے انتظامیہ سے صرف دو دن کی مہلت مانگی تھی تاکہ وہ خراب ہونے والی اشیاء فروخت کر سکے اور قرض کے بوجھ سے بچ جائے، مگر اس کی درخواست کو نظر انداز کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس کارروائی کے نتیجے میں اسے نہ صرف مالی نقصان اٹھانا پڑا بلکہ اس کے روزگار کا واحد ذریعہ بھی متاثر ہوا۔

آفتاب بیگ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ شہر میں دیگر کئی ریڑھیاں بدستور قائم ہیں، مگر کارروائی صرف اس کے خلاف کی گئی، جو امتیازی سلوک کی نشاندہی کرتا ہے۔

واقعے کے بعد شہری حلقوں اور سماجی افراد نے حکام سے نوٹس لینے اور معاملے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر الزامات درست ہیں تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، جبکہ متاثرہ شخص کو انصاف فراہم کیا جائے۔

دوسری جانب، میونسپل کارپوریشن کی جانب سے اس واقعے پر تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا، جس کے باعث معاملے میں مزید ابہام پایا جا رہا ہے۔

مظفرآباد میں ریڑھی بان اور چھوٹے کاروباری افراد پہلے ہی محدود وسائل اور سخت انتظامی پالیسیوں کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ ایسے میں بھتہ خوری جیسے الزامات انتظامی شفافیت اور شہری حقوق کے حوالے سے اہم سوالات کو جنم دیتے ہیں۔

Share this content: