پاکستان میں شہری آزادیوں پر دباؤ میں اضافہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ جاری

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی تازہ رپورٹ The State of the World’s Human Rights 2026 میں کہا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران شہری آزادیوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ڈیجیٹل اسپیس پر ریاستی کنٹرول میں اضافہ، اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے سیکیورٹی قوانین کا وسیع استعمال، اور سیاسی و سماجی کارکنوں پر دباؤ نے آزادی اظہار اور اجتماع کو شدید متاثر کیا۔

ایمنسٹی کے مطابق حکام نے آزادی اظہار کو محدود کرنے کے لیے سائبر کرائم اور انسداد دہشت گردی کے قوانین کا بڑھ چڑھ کر استعمال کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر اظہار کرنے والے صحافیوں، کارکنوں اور اپوزیشن ارکان کو گرفتار کیا گیا۔آن لائن مواد کو سنسر کیا گیا۔متعدد مواقع پر انٹرنیٹ سروسز معطل کی گئیں۔

رپورٹ میں Prevention of Electronic Crimes Act (PECA) میں کی گئی ترامیم کو خاص طور پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

ایمنسٹی کے مطابق:
"جھوٹی اور جعلی معلومات” کے نام پر نئے جرائم متعارف کرائے گئے۔آن لائن مواد کی نگرانی اور کنٹرول کے اختیارات بڑھائے گئے۔پاکستانی ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بلاک کیا۔خاص طور پر بلوچستان میں انٹرنیٹ بندش کے واقعات رپورٹ ہوئے۔

رپورٹ میں انسانی حقوق کے کارکن ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کے خلاف مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ سوشل میڈیا پوسٹس پر قانونی کارروائیوں نے سنجیدہ خدشات پیدا کیے۔

ایمنسٹی کے مطابق ریاستی اشتہارات روک کر میڈیا پر مالی دباؤ ڈالا گیا۔تنقیدی آوازوں کو نشانہ بنایا گیا۔PECA اور انسداد دہشت گردی قوانین کا استعمال بڑھا۔

رپورٹ میںپاکستانی کی آئین کی ستائیسویں ترمیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس سے اعلیٰ عدلیہ کی آزادی متاثر ہوئی۔طاقتور عہدوں کو وسیع استثنیٰ ملا۔احتساب کے نظام پر سوالات اٹھے۔

رپورٹ کے مطابق سیاسی میدان میں بھی دباؤ میں اضافہ دیکھا گیا، خاص طور پرپاکستان تحریک انصاف کے خلاف کارروائیوں میں اہم نکات،9 مئی 2023 کے واقعات سے متعلق مقدمات میں 100 سے زائد رہنماؤں اور کارکنوں کو سزائیں۔سزا پانے والوں میںعمر ایوب خان،شبلی فراز،زرتاج گل ،خدیجہ شاہ شامل ہیں۔

رپورٹ میں عمران خان کی قید کا بھی ذکر کیا گیا، جسے ایمنسٹی نے "سیاسی بنیادوں پر مقدمات” قرار دیا۔

تنظیم کے مطابق انہیں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا۔وکلا اور اہل خانہ تک رسائی محدود رہی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان میں 2025-26 کا دور شہری آزادیوں کے لیے ایک مشکل سال ثابت ہوا، جہاں اظہار رائے محدود ہوا۔ڈیجیٹل نگرانی میں اضافہ ہوا۔سیاسی اور سماجی کارکنوں پر دباؤ بڑھا۔

رپورٹ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آزادی اظہار، عدلیہ کی خودمختاری اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

Share this content: