جامعہ کشمیر میں طلبہ کااحتجاج شدت اختیار کر گیا،تعلیمی سرگرمیاں معطل، چارٹر آف ڈیمانڈ پیش

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں واقع جامعہ کشمیر گزشتہ دو روز سے طلبہ احتجاج کے باعث بند ہے، جس کے نتیجے میں تمام تعلیمی سرگرمیاں معطل ہو چکی ہیں۔

طلبہ کی بڑی تعداد نے جامعہ انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے اپنے مطالبات کے حق میں دھرنا دے رکھا ہے۔

طلبہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے جامعہ انتظامیہ کے سامنے 20 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا ہے، تاہم تاحال کسی قسم کی سنجیدگی یا پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔ مظاہرین کے مطابق اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

طلبہ کے چارٹر آف ڈیمانڈ میں متعدد بنیادی اور انتظامی نوعیت کے مسائل شامل ہیں، جن میں نمایاں نکات درج ذیل ہیں:
فیسوں میں ریلیف اور جمع کرانے کے لیے نئی حتمی تاریخ مقرر کی جائے
آن لائن کلاسز کے باعث متاثرہ طلبہ کے لیے امتحانات بھی آن لائن لیے جائیں
کورس آفر اور سلیکشن میں طلبہ کو آزادی دی جائے
سمر سمسٹر کی اجازت اور فیس کم کر کے پانچ ہزار روپے مقرر کی جائے
اینٹی ہراسمنٹ سیل کا قیام اور طلبہ کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے
ڈراپ آؤٹ طلبہ کی بحالی اور سپیشل چانس فراہم کیا جائے
نتائج کے اجرا کے لیے مقررہ ٹائم لائن دی جائے
مختلف شعبہ جات میں انتظامی بے ضابطگیوں اور رویوں کی اصلاح کی جائے
ٹرانسپورٹ، ہاسٹل اور انٹرنیٹ سہولیات کو بہتر بنایا جائے
اضافی اور “مسلینس” چارجز ختم کیے جائیں
آن لائن تعلیم اور انٹرنیٹ مسائل

طلبہ کا مؤقف ہے کہ ملکی حالات کے باعث نصف سمسٹر آن لائن کلاسز پر مشتمل رہا، تاہم انٹرنیٹ کی ناقص سہولت کے باعث طلبہ کی بڑی تعداد کلاسز سے محروم رہی۔ اسی بنیاد پر طلبہ امتحانات بھی آن لائن لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ جامعہ کشمیر گزشتہ ایک سال سے طلبہ مسائل کے باعث بارہا احتجاج کی زد میں رہی ہے۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے جامعہ کی حدود میں دفعہ 144 نافذ کر رکھی ہے، جبکہ پولیس کی اضافی نفری بھی تعینات کی گئی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر جامعہ انتظامیہ اور طلبہ کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو تعلیمی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے، جس کا اثر ہزاروں طلبہ کے مستقبل پر پڑنے کا خدشہ ہے۔

Share this content: