کتاب کا عالمی دن: کشمیر میں علم پر قدغن، 50 سے زائد کتب پابندی کی زد میں

کاشگل نیوزخصوصی رپورٹ

دنیا بھر میں آج کتاب کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، جہاں علم، تحقیق اور اظہارِ رائے کی آزادی کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم اس موقع پر ایک تشویشناک پہلو بھی سامنے آیا ہے، جہاں دیگر خطوں کی طرح پاکستان زیر انتظام کشمیر میں بھی بعض کتب حکومتی پابندیوں کا شکار ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکام کی جانب سے مصنف سعید اسد کی 25 کتابوں پر پابندی عائد ہے۔

سرکاری احکامات کے مطابق ان کتب کی خرید و فروخت کو جرم قرار دیا گیا ہے، اور مارکیٹ میں ان کی دستیابی کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے گے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ان کتابوں کے مواد کو حساس قرار دیتے ہوئے ان پر پابندی لگائی گئی، تاہم ناقدین اس اقدام کو اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن قرار دے رہے ہیں۔

کہاجارہا ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھی یہی صورتحال ہے ۔یہ معاملہ صرف ایک خطے تک محدود نہیں۔

بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر میں بھی گزشتہ برس اگست میں تاریخِ کشمیر پر لکھی گئی 25 کتابوں پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ ان کتابوں کو بھی متنازع مواد کے باعث مارکیٹ سے ہٹایا گیا۔

دانشوروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ کتابوں پر پابندیاں معاشرے میں فکری جمود پیدا کرتی ہیں۔

ان کے مطابق اختلافی خیالات کو دبانے کے بجائے مکالمے کے ذریعے حل تلاش کرنا زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔

Share this content: