عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد کرنے پر ایچ آر سی پی کا اظہار تشویش

انسانی حقوق کمیشن نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکومت کی جانب سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت پابندی عائد کرنے کے فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یہ پابندی ایسے وقت میں عائد کی گئی ہے جب مذکورہ کمیٹی نےنو جون کو عوامی احتجاج کی کال دے رکھی تھی۔

ایچ آر سی پی کے مطابق ایک ایسے گروہ کے خلاف انسدادِ دہشت گردی قوانین کا استعمال، جو سیاسی اور سماجی و معاشی مطالبات کے لیے متحرک رہا ہے، سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے خطے میں پُرامن اجتماع اور اختلافِ رائے کے لیے گنجائش میں کمی کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔

ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات شہری آزادیوں پر ممکنہ قدغن کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ایچ آر سی پی نے کہا ہے کہ ایسے وقت میں جب جولائی میں کشمیر میں انتخابات قریب آ رہے ہیں، یہ انتہائی ضروری ہے کہ بنیادی حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے۔ان حقوق میں اظہارِ رائے کی آزادی، تنظیم سازی کا حق اور پُرامن اجتماع کا حق شامل ہیں۔

کمیشن کے مطابق جمہوری عمل کی ساکھ کے لیے یہ لازم ہے کہ شہریوں کو بغیر خوف کے اپنے خیالات کے اظہار اور پُرامن احتجاج کی اجازت دی جائے۔

Share this content: