کتاب کا عالمی دن: شعور، جدوجہد اور نوجوان کی فکری بازیابی

تحریر: طاہر نذیر

ہر سال 23 اپریل کو دنیا بھر میں World Book Day منایا جاتا ہے، مگر اس دن کی اصل روح صرف کتاب سے محبت نہیں بلکہ علم کو شعور اور شعور کو جدوجہد میں بدلنے کا پیغام بھی ہے۔ آج کے دور میں یہ سوال پہلے سے زیادہ اہم ہو چکا ہے کہ نوجوان کتاب سے دور کیوں ہو رہا ہے، اور اس دوری کے سماجی و معاشی اثرات کیا ہیں۔

کمیونسٹ نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو علم محض معلومات کا مجموعہ نہیں بلکہ طبقاتی شعور (Class Consciousness) پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ Karl Marx اور Friedrich Engels نے واضح کیا تھا کہ سرمایہ دارانہ نظام میں حکمران طبقہ نہ صرف معیشت بلکہ خیالات اور بیانیے پر بھی قبضہ رکھتا ہے۔ آج کا سوشل میڈیا اسی تسلسل کی جدید شکل ہے، جہاں نوجوان کو مصروف تو رکھا جاتا ہے مگر بیدار نہیں کیا جاتا۔

موبائل فون اور سوشل میڈیا نے نوجوان کو ایک ایسے دائرے میں قید کر دیا ہے جہاں وقتی تفریح، مصنوعی رجحانات اور غیر سنجیدہ مواد غالب ہے۔ اس کے برعکس کتاب نوجوان کو تاریخ، معیشت اور سیاست کا وہ شعور دیتی ہے جو اسے اپنے استحصال کو سمجھنے اور اس کے خلاف کھڑے ہونے کا حوصلہ دیتا ہے۔ جب نوجوان کتاب سے دور ہوتا ہے تو درحقیقت وہ اپنی طبقاتی پہچان اور جدوجہد کی سمت سے بھی دور ہو جاتا ہے۔

The Communist Manifesto جیسی تحریریں محض کتابیں نہیں بلکہ انقلابی دستاویزات ہیں، جو مزدور طبقے کو یہ احساس دلاتی ہیں کہ ان کی محرومی کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک منظم نظام کا نتیجہ ہے۔ اسی طرح Das Kapital سرمایہ دارانہ استحصال کی گہرائی کو بے نقاب کرتی ہے۔ مگر جب نوجوان ان کتابوں سے ناآشنا رہتا ہے تو وہ اسی نظام کا حصہ بن کر رہ جاتا ہے جسے بدلنا اس کی تاریخی ذمہ داری ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان کو دوبارہ کتاب کی طرف راغب کیا جائے، مگر محض نصابی نہیں بلکہ انقلابی اور تنقیدی ادب کی طرف۔ تعلیمی ادارے، طلبہ تنظیمیں اور سماجی حلقے اگر واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو انہیں مطالعہ کو ایک سیاسی و سماجی عمل کے طور پر فروغ دینا ہوگا۔

کتاب کا عالمی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقیقی آزادی صرف سیاسی نہیں بلکہ فکری بھی ہوتی ہے۔ اور یہ فکری آزادی اسی وقت ممکن ہے جب نوجوان کتاب کے ذریعے اپنے اردگرد کے نظام کو سمجھے، سوال کرے اور اسے بدلنے کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرے۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب شعور بیدار ہوتا ہے تو انقلاب جنم لیتا ہے۔

٭٭٭

Share this content: