تحریر: دانش منظور
انسانی تہذیب کی داستان اگر کسی ایک شے میں سمٹ سکتی ہے تو وہ کتاب ہے مگر کتاب الفاظ کی ترتیب ہی نہیں ہے یہ وقت کے سینے میں محفوظ شعور کی سانس ہے۔ یہ سفر اُس لمحے سے شروع ہوتا ہے جب انسان نے پہلی بار اپنی سوچ کو ہوا کے سپرد کرنے کے بجائے مٹی پر ثبت کیا۔
جب انسان نے پہلی بار اپنی سوچ کو فنا سے بچانے کے لیے مٹی کی تختیوں پر کندہ کیا۔ پھر مصر کے پیپرس چین کے کاغذ اور برصغیر کی قدیم تہذیبوں وادیِ سندھ کے مہروں اور علامتی نقوش نے اس اظہار کو ایک مستقل صورت دی۔ یہاں علم صرف لکھا نہیں جاتا تھا یہ تہذیب کی سانسوں میں رواں دواں رہتا تھا۔ قدیم تہذیبوں میں مٹی کی تختیوں پر کندہ نشانات دراصل یادداشت کو فنا سے بچانے کی ایک ابتدائی کوشش تھے۔ دنیا کے کتب خانوں نے علم کو ایک نئی زندگی دی جہاں کتاب صرف محفوظ رہنے کے ساتھ ساتھ پھیلنے لگی سانس لینے لگی اور انسان سے انسان تک سفر کرنے لگی۔
برصغیر کی علمی روایت میں کتاب متن کے ساتھ ایک زندہ تجربہ بھی رہی ہے۔ ویدوں اور اُپنشدوں کی صورت میں علم کو سینہ بہ سینہ منتقل کیا گیا اور پھر جب اسے تحریری قالب ملا تو اس نے روحانیت فلسفہ اور زندگی کے سوالات کو ایک ہی دھارے میں سمو دیا۔ اسی روایت کی ایک درخشاں مثال راج ترنگنی ہے جسے کشمیر کے ایک مصنف پنڈت کہلن نے بارویں صدی میں تحریر کیا۔ یہ کتاب برصغیر کی پہلی تحریری تاریخی کتاب مانی جاتی ہے۔ یہ تاریخ کے ساتھ ساتھ ایک شعوری دریا ہے جہاں واقعات کے ساتھ ساتھ انسانی کمزوریوں اقتدار کے اتار چڑھاؤ اور وقت کی بے رحمی کا فلسفہ بھی بہتا ہے۔ راج ترنگنی کتاب صرف ماضی کو محفوظ نہیں کرتی یہ اسے سمجھنے کا زاویہ بھی عطا کرتی ہے۔
اسی دوران مغرب میں قدیم یونان کے میدانوں میں فکر کا ایک نیا چراغ روشن ہوا۔ سقراط نے سوال کو علم کی بنیاد بنایا۔ افلاطون نے مکالمے کو فلسفے کی روح بنایا اور ارسطو نے منطق کو ایک منظم علم کی شکل دی۔
اس طرح سے کتاب ایک ایسے قالب میں ڈھلی جہاں علم روایت کے ساتھ ساتھ جستجو بن گیا۔ کسی بھی کتاب کا اصل کمال یہی ہوتا ہے کہ یہ وقت کو شکست دیتی ہے۔ ایک مصنف اپنے عہد سے نکل کر صدیوں بعد کسی اجنبی ذہن میں دوبارہ زندہ ہو جاتا ہے۔ یہ وہ خاموش مکالمہ ہوتا ہے جہاں نہ آواز ہوتی ہے اور نہ شور ہوتا ہے مگر اثر ایسا گہرا ہوتا ہے کہ تہذیبیں تشکیل پاتی ہیں۔
اسلامی دنیا میں جب بغداد قرطبہ اور سمرقند کے کتب خانے علم کے مراکز بنے تو کتاب نے تہذیبوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کیا۔ یونانی فلسفہ ہندوستانی حکمت اور عربی فکر ایک ہی صفحے پر مکالمہ کرنے لگے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب کتاب کسی ایک خطے کے بجائے پوری انسانیت کی مشترکہ میراث بن گئی۔ پھر پرنٹنگ پریس آیا اور علم نے اشرافیہ کی دیواریں توڑ دیں۔ اب کتاب چند ہاتھوں کی ملکیت نہیں رہی۔ یہ ایک اجتماعی شعور بن گئی ہے مگر اس سارے ارتقا کے باوجود کتاب کی روح نہیں بدلی۔
کتاب آج بھی انسان کو اس کی اپنی گہرائیوں سے روشناس کراتی ہے۔ آج کے ڈیجیٹل عہد میں جب اسکرین کی چمک آنکھوں کو خیرہ کر رہی ہے تو کتاب اب بھی وہی خاموش ہمراز ہے جو انسان کو اپنے اندر کی طرف لے جاتی ہے۔ ہمیں سکھاتی ہے کہ علم معلومات ہی نہیں مگر سوچنے سوال کرنے اور خود کو دریافت کرنے کا عمل بھی ہے۔
کتاب کا سب سے بڑا فلسفہ ہی یہ ہے کہ کتاب ہمیں اس تسلسل کا احساس دلاتی ہے کہ ہم ایک ایسی زنجیر کا حصہ ہیں جس میں وادیِ سندھ کی خاموش مہریں راج ترنگنی کی موجیں یونان کی منطق اور دنیا بھر کی تہذیبوں کا شعور جڑا ہوا ہے۔
آخر میں جب سب لفظ تھک جائیں۔ جب زمانہ اپنی تمام کہانیاں سنا کر خاموش ہو جائے تب بھی کتاب ایک چراغ کی مانند جلتی رہتی ہے۔ نہ وقت اسے بجھا سکتا ہے اور نہ ہی فراموشی اسے مٹا سکتی ہے۔ یہ وہ خاموش امانت ہے جو انسان کے ہاتھوں سے گزر کر صدیوں کے سینوں میں سانس لیتی رہتی ہے۔
کتاب نے ہمیں صرف اتنا ہی نہیں بتایا کہ ہم کیا تھے مگر یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہم کیا بن سکتے ہیں۔ یہ ہمارے اندر اُس انسان کو جگاتی ہے جو شاید روزمرہ کی ہلچل میں کہیں سو گیا ہوتا ہے۔ سو اگر کبھی زندگی کی راہوں میں اندھیرا گہرا ہو جائے۔ اگر سوالوں کا بوجھ دل پر اتر آئے تو کسی کتاب کا در ضرور کھٹکھٹانا۔ ممکن ہے وہاں تمہیں کوئی اور نہ ملے مگر تم خود کو ضرور پا لو گے۔ کتاب پڑھنا خود کو پڑھنے کا ہنر ہے اور جو خود کو پڑھ لے وہی زمانے کو سمجھنے کا حق ادا کرتا ہے۔ آئیے آج کے دن ہم پھر سے اس خاموش رفیق کا ہاتھ تھام لیں کہ شاید اسی بہانے ہم اپنے بکھرے ہوئے شعور کو سمیٹ سکیں اور اپنے اندر ایک بہتر انسان کو دوبارہ دریافت کر لیں۔
آپ سب کو کتابوں کا یہ عالمی دن بہت بہت مبارک ہو!
٭٭٭
Share this content:


