آج پہاڑی زبان کا عالمی دن ہے۔ تمام پہاڑی زبان بولنے والے دوست احباب کو پہاڑی زبان کا یہ عالمی دن مبارک ہو۔ اس موقع پر دل بے اختیار یہ کہتا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ اچانک آج فیس بک پر گردش کرتے اس قدیم مخطوطے پر نظر پڑی جس میں شاردا رسم الخط میں بوجھ پتر پر کچھ علم لکھا ہوا ہے۔
میرے لیے یہ صرف حروف نہیں ہیں یہ ایک تہذیب کی آواز ہیں۔ ایک ایسی قوم کی پہچان جو اپنی زبان اپنے علم اور اپنی زمین سے جڑی ہوئی تھی۔ ہماری زبانیں ہماری بولیاں جن میں پہاڑی بھی شامل ہیں آہستہ آہستہ ہماری زندگیوں سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ ہم نے ترقی کے نام پر اپنی ہی شناخت کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ ہم دنیا کی ہر زبان سیکھنا چاہتے ہیں مگر اپنی ماں بولی بولنے میں جھجھک محسوس کرتے ہیں۔
ایک بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ جس قوم کی زبان مر جاتی ہے اس کی تاریخ اس کی سوچ اور اس کی پہچان بھی دھندلا جاتی ہے۔ پہاڑی زبان الفاظ کا مجموعہ نہیں ہے یہ ہماری ماں کی لوری ہے یہ ہمارے بزرگوں کی دانائی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ ہماری زمین کی خوشبو ہے۔
آج کے دن کی مناسبت سے میں اپنے خطہ کے ان تمام دوستوں کو جو پہاڑی زبان بولتے ہیں، کو دل کی گہرائی سے پہاڑی زبان کے اس عالمی دن کی مبارکباد دیتا ہوں اور ساتھ میں ایک عاجزانہ گزارش بھی کرتا ہوں کہ اپنی اپنی مادری زبان پر فخر کریں۔ اسے گھروں میں بولیں۔ اپنے بچوں کو سکھائیں۔ اسے لکھنے پڑھنے اور محفوظ کرنے کی کوشش کریں۔
اپنی زبان اپنی تہذیب اپنے کلچر کو اپنی نئی نسل تک پہنچانا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اپنی زبان کے ذریعے اپنی مٹی کے ذریعے اور اپنی تاریخ کے ذریعے ہم اپنی پہچان کو زندہ رکھیں۔ کوئی بھی مادری زبان زندہ تب رہے گی اگر ہم اسے زندہ رکھیں گے۔
تصویر میں ایک نہایت قیمتی تاریخی ورثہ موجود ہے۔ یہ ایک قدیم کشمیری مخطوطہ ہے جو درخت کی چھال بوجھ پتر پر لکھا گیا ہے۔ شاردا رسم الخط کشمیر کا قدیم علمی رسم الخط تھا۔ میں شاردا پیٹھ کے حوالے سے کافی تفصیل سے پہلے بھی لکھ چکا ہوں۔
یہ رسم الخط خاص طور پر سنسکرت کشمیری مذہبی و علمی متون میں استعمال ہوتا تھا اور یہ رسم الخط کشمیر کی علمی تہذیب کی پہچان ہے۔ قدیم زمانے میں کاغذ نہیں ہوتا تھا تو لوگ درخت کی چھال پر خاص طور پر بوجھ برچ بارک Birch tree پر لکھتے تھے۔ یہ درخت ہمالیہ کی بلند پہاڑیوں میں اگتا ہے اور اسی لیے یہ مخطوطے زیادہ تر کشمیر اور تبت کے علاقوں میں ملتے ہیں۔
تصویر میں موجود حروف ہماری ایک گمشدہ علمی دنیا کی جھلک ہے کہ ہمارا خطہ کشمیر صرف سیاسی خطہ نہیں تھا یہ ایک بڑی علمی تہذیب تھا جہاں لکھنے کا نظام تھا۔ جغرافیہ لکھا جاتا تھا اور علم کو بھی محفوظ کیا جاتا تھا۔ آج ہم اپنی مٹی اور تاریخ سے بالکل کٹ گئے ہیں اور یہ تصویر اس کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ جن لوگوں نے یہ لکھا وہ علم کے وارث تھے اور آج ہم اپنی ہی سر زمین پر رہتے ہوئے بھی اپنی شناخت تک کھو چکے ہیں۔
٭٭٭
Share this content:


