تحریر: ذوالفقار علی
آزاد کشمیر کے وزیرِاعظم نے کسی قانونی جواز کے بغیر ٹرانسپورٹیشن خدمات پر سیلز ٹیکس کی مد میں ٹھیکیداروں کو لگ بھگ 88 کروڑ روپے معاف کر دیے۔ قانون کے مطابق یہ ٹیکس صرف اسی صورت میں معاف کیا جا سکتا ہے جب قومی سلامتی، قدرتی آفات، ہنگامی صورتِ حال میں قومی غذائی تحفظ یا دوطرفہ و کثیرالملکی معاہدات پر عملدرآمد جیسے حالات درپیش ہوں۔ تاہم آزاد کشمیر میں نہ تو قومی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق ہے، نہ قدرتی آفات یا ہنگامی صورتِ حال موجود ہے، اور نہ ہی دوطرفہ یا کثیرالملکی معاہدات پر عملدرآمد کا کوئی معاملہ درپیش ہے۔ اس کے باوجود یہ ٹیکس معاف کیا گیا جس کا کوئی قانونی جواز نہیں۔
یہ ٹیکس ایک ایسے وقت میں معاف کیا گیا جب اس معاملے سے متعلق ایک مقدمہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ ایک سرکاری افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حکومت کو عدالت کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے تھا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ٹیکس معافی کا نوٹیفکیشن محکمہ اِن لینڈ ریونیو کے بجائے محکمہ خوراک کی جانب سے جاری کیا گیا۔
محکمہ خوراک آزاد کشمیر کی ایک سرکاری دستاویز کے مطابق 2019 سے 2023 کے دوران گندم اور آٹے کی ترسیل کے لیے حاصل کی گئی ٹرانسپورٹیشن خدمات پر سیلز ٹیکس کی مد میں ٹھیکیداروں کے ذمے 87 کروڑ 73 لاکھ 8 ہزار روپے سے زائد رقم واجب الادا تھی۔ سال 2019 میں آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے فنانس ایکٹ 2019 کے تحت ٹرانسپورٹیشن سروسز پر 16 فیصد سیلز ٹیکس نافذ کیا تھا، جو 2022 تک برقرار رہا۔ بعد ازاں فنانس ایکٹ 2022 کے تحت اس شرح کو کم کر کے 15 فیصد کر دیا گیا۔ یہ ٹیکس ان تمام خدمات پر لاگو ہوتا ہے جو سامان کی ترسیل کے لیے حاصل کی جاتی ہیں۔
تاہم محکمہ خوراک نے چار سال تک نہ تو یہ ٹیکس ٹھیکیداروں سے وصول کیا اور نہ ہی کسی قسم کی کٹوتی کی، حالانکہ جب بھی گندم اور آٹے کی ترسیل کے لیے ٹرانسپورٹیشن خدمات کے اشتہارات جاری کیے جاتے ہیں، ان میں واضح طور پر درج ہوتا ہے کہ تمام قابلِ اطلاق ٹیکسز لاگو ہوں گے۔ اس کے باوجود محکمہ خوراک چار سال تک ٹیکس وصول کرنے میں ناکام رہا۔
محکمہ خوراک کے بعض افسران کا یہ مؤقف رہا کہ انہیں ٹرانسپورٹیشن خدمات پر سیلز ٹیکس کے نفاذ کا علم نہیں تھا، اس لیے کٹوتی نہیں کی گئی۔ یہ مؤقف حیران کن ہے کیونکہ یہ ٹیکس باقاعدہ طور پر اسمبلی سے منظور کیا گیا تھا اور اس کی تفصیلات تمام متعلقہ اداروں، وزرا، اراکینِ اسمبلی اور افسران کو فراہم کی گئی تھیں۔
دوسری جانب ٹھیکیداروں کا کہنا ہے کہ انہیں اس ٹیکس کے بارے میں کوئی باضابطہ اطلاع نہیں دی گئی اور نہ ہی ان کے بلوں سے ٹیکس کی کٹوتی کی گئی۔ ان کے مطابق اب ان سے ماضی کا ٹیکس طلب کرنا غیر منصفانہ ہے۔
ماضی میں اس معاملے پر سرکاری سطح پر تین تجاویز زیرِ غور رہیں۔ پہلی تجویز یہ تھی کہ محکمہ خزانہ اضافی فنڈز فراہم کرے تاکہ یہ ٹیکس سرکاری خزانے میں جمع کرایا جا سکے۔ دوسری تجویز بقایاجات کی وصولی کی تھی، جبکہ تیسری تجویز کے تحت آزاد کشمیر سیلز ٹیکس ایکٹ 2001 کی دفعہ 3(2A) کو سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 13(2A) کے ساتھ ملا کر پڑھتے ہوئے ٹیکس سے استثنیٰ دیا جا سکتا تھا، بشرطیکہ قومی سلامتی، قدرتی آفات، ہنگامی صورتِ حال میں قومی غذائی تحفظ یا دوطرفہ و کثیرالملکی معاہدات پر عملدرآمد جیسے حالات موجود ہوں۔
تاہم قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی دو حکومتیں اور بعد ازاں مخلوط حکومت بھی اس ٹیکس کو معاف نہ کر سکیں کیونکہ اس کے لیے کوئی قانونی جواز موجود نہیں تھا۔
اس کے برعکس پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے یہ ٹیکس معاف کر دیا، حالانکہ ایسی کوئی غیر معمولی صورتِ حال موجود نہیں ہے جو اس فیصلے کو قانونی جواز فراہم کر سکتی۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ ٹیکس ایک ایسے وقت میں معاف کیا گیا جب حکومت کو رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ (جولائی 2025 سے 31 مارچ 2026 تک) کے دوران ٹیکس وصولی میں 18 ارب روپے کا شارٹ فال کا سامنا ہے، جو مالی سال کے اختتام (30 جون 2026) تک بڑھ کر 25 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ حکومت نے رواں مالی سال کے لیے ٹیکس وصولی کا ہدف 85 ارب روپے مقرر کیا تھا، تاہم موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر اندازہ ہے کہ صرف 60 ارب روپے تک ٹیکس جمع ہو سکے گا۔ اس طرح خطے کی مجموعی آمدنی رواں سال تقریباً 87 ارب روپے رہے گی، جو سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز کے لیے بھی ناکافی ہے۔
٭٭٭
Share this content:


