لائن آف کنٹرول کے نیلم سیکٹر سے ایک دل خراش ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس نے انسانی المیے کی ایک بار پھر یاد دہانی کروا دی ہے۔
ویڈیو میں ایک ایسا منظر دکھایا گیا ہے جو صرف ایک خاندان کا نہیں بلکہ پورے کشمیر کی اجتماعی داستان معلوم ہوتا ہے۔
ذرائع کے مطابق، ایک نوجوان کا جنازہ بھارتی زیر انتظام کشمیر میں اٹھایا جا رہا ہے، جبکہ اس کی بہن دریا کے دوسرے کنارے، پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں کھڑی بے بسی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ وہ اپنے بھائی کے جنازے کو دیکھ تو سکتی ہے، مگر آخری دیدار کی حسرت لیے وہیں ٹھہر جاتی ہے۔
لائن آف کنٹرول، جو بظاہر ایک جغرافیائی حد ہے، درحقیقت ہزاروں خاندانوں کے درمیان ایک ایسی دیوار بن چکی ہے جس نے رشتوں، جذبات اور انسانی تعلقات کو تقسیم کر رکھا ہے۔
نیلم دریا کے بیچ بہتی لکیر نے نہ صرف زمین بلکہ دلوں کو بھی جدا کر دیا ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا سرحدی تنازعات کے بیچ انسانیت کی کوئی جگہ باقی رہتی ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات عالمی انسانی حقوق کے دعووں پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔ بین الاقوامی اور مقامی انسانی حقوق کی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ اس طرح کے انسانی مسائل پر واضح مؤقف اپنائیں اور متاثرہ خاندانوں کے لیے آواز بلند کریں۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ زمینی تنازعات اپنی جگہ، مگر انسانوں کو ایک دوسرے سے ملنے، دکھ درد بانٹنے اور آخری رسومات میں شرکت کا بنیادی حق ضرور حاصل ہونا چاہیے۔
یہ واقعہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ کشمیر میں بے یقینی، اداسی اور پریشانی صرف الفاظ نہیں بلکہ روزمرہ کی حقیقت ہیں۔ یہاں ہر بہتا دریا، ہر خاموش پہاڑ اور ہر سنسان راستہ بچھڑتے رشتوں کی داستان سناتا ہے۔
یہ ویڈیو محض ایک منظر نہیں، بلکہ ایک سوال ہےکہ کیا سرحدیں انسانوں سے زیادہ اہم ہو چکی ہیں؟
Share this content:


