مظفرآباد /راولاکوٹ/ کاشگل نیوز
پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں جاری احتجاجی تحریک کے تناظر میں مختلف عوامی و سماجی حلقوں نے عالمی برادری، اقوام متحدہ، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی میڈیا سے صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
مقامی ذرائع اور احتجاجی حلقوں کے مطابق حالیہ دنوں میں احتجاجی مظاہروں اور ریاستی کارروائیوں کے دوران انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ احتجاجی نمائندوں کا مؤقف ہے کہ بعض مقامات پر طبی مراکز اور ہسپتالوں کے اندر و روڈوں پہ فائرنگ کے واقعات پیش آئے جن کے نتیجے میں جو شہری زخمی ہوئے، زخمی افراد کو بروقت طبی امداد کی فراہمی میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
احتجاجی حلقوں کا مزید دعویٰ ہے کہ زخمیوں کو امداد پہنچانے اور رضاکارانہ خدمات انجام دینے والے افراد کو بھی مختلف رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، جس سے انسانی صورتحال مزید پیچیدہ ہوئی۔ ان حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان الزامات کی غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔
عوامی نمائندوں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ خطے کی صورتحال پر توجہ دے اور کشیدگی میں کمی، انسانی حقوق کے تحفظ اور پرامن حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو خطے میں مزید بے چینی اور عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
عوامی حلقوں نے کہا ہے کہ پاکستان مستقبل کا اسرائیل اور کشمیر فلسطین بنے جا رہا ہے عالمی برادری یو این او انسانی حقوق کی تنظیمیں انٹرنیشنل میڈیا اس پہ فوکس کرے اور عالمی امن تباہ ہونے سے بچائے۔ واضح رہے جس طرح اسرائیل نے ہسپتالوں و سکولز پہ بم گرائے اس طرح پاکستانی فورسز نے پاکستان زیر انتظام جموں و کشمیر میں ہسپتالوں میں فائرنگ کی ہسپتال کے اندر فائرنگ کے نتیجے میں لوگ زخمی بھی ہوئے۔ جبکہ سٹرکوں پہ بھی زخمی ہونے والے عام شہریوں کو بروقت طبعی امداد نہ دی گئی اور نہ طبعی امداد کے لئے پہنچایا گیا۔ بلکہ رضاکارانہ طور پہ کام کرنے والوں کے راستوں میں رکاوٹیں ڈالی گئی ۔ یہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ عالمی دنیا اس بات کا نوٹس لے اور نہتے کشمیریوں کے لئے راستہ نکالنے میں مدد کرے
Share this content:


