کشمیر میں مظاہرین کی لاشوں کی وصولی دہشت گرد تسلیم کرنے سے مشروط

راولاکوٹ/ کاشگل نیوز

پاکستان زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں حالیہ احتجاجی واقعات کے دوران فورسز ہاتھوں قتل ہونے والے 5 نہتے مظاہرین کی لاشوں کی وصولی دہشت گردتسلیم کرنے سے مشروط کردی گئی ہے۔

متاثرہ خاندانوں اور مقامی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ تحریکی شہید افراد کی لاشیں تاحال پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی تحویل میں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ حکام کی جانب سے لواحقین سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ تحریری طور پر تسلیم کریں کہ ہلاک افراد "دہشت گرد” تھے، جس کے بعد ہی لاشیں ان کے حوالے کی جائیں گی۔

تاہم مختلف ذرائع کے مطابق عوام واقعے کی تحقیقات جاری رکھنے کا مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ بلوچستان میں بھی فورسز کی جانب سے یہی پالیسی اپنائی گئی ہے ،جب کسی جبری لاپتہ افراد کو ماورا ئے عدالت یاجعلی مقابلے میں قتل کیا جاتا ہے اورجب اس کی لاش وصولی کے لئے فیملی سامنے آتی ہے تواس سے پہلے سے تیار شدہ ایک فارم کو دستخط کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے کہ تسلیم کریں ہلاک شخص ایک دہشت گرد تھا ۔

لواحقین نے مطالبہ کیا ہے کہ لاشیں فوری طور پر ورثاء کے حوالے کی جائیں تاکہ ان کی مذہبی اور سماجی روایات کے مطابق تدفین کی جا سکے۔

Share this content: