مظفرآباد/ پونچھ / میرپور/کاشگل نیوز
پاکستان زیر انتظام جموں و کشمیر میں جاری شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال چھٹے روز میں داخل ہو گئی ہے۔ مختلف علاقوں میں کاروباری مراکز بند جبکہ ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت بھی شدید متاثر ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
احتجاجی حلقوں کا مؤقف ہے کہ حکومت عوامی مسائل کے حل کے بجائے انتظامی اقدامات اور سکیورٹی پابندیوں کے ذریعے صورتحال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ دوسری جانب حکومتی ذرائع کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق متعدد علاقوں میں کرفیو اور نقل و حرکت پر پابندیاں بدستور برقرار ہیں۔ رالاکوٹ شرکاء دھرنہ شہریوں کو نمازِ جمعہ کی ادائیگی بھی نہیں کرنے دی گئی۔
احتجاجی دھرنوں میں شریک افراد کی بڑی تعداد مختلف مقامات پر موجود ہے اور مظاہرین اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کر رہے ہیں۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبران کے درمیان آئندہ لائحہ عمل پر مشاورت جاری ہے، جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کے حوالے سے کسی بھی وقت اعلان متوقع ہے۔
علاقے کی سیاسی و سماجی صورتحال پر مقامی اور بین الاقوامی حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں، جبکہ شہریوں کی جانب سے مسائل کے پرامن اور مذاکراتی حل کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
Share this content:


