برطانیہ کی رکن پارلیمنٹ جیس فلپس نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حالیہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے برطانوی وزیر خارجہ کو خط لکھ کر فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
ہاؤس آف کامنز سے جاری کیے گئے خط میں جیس فلپس ایم پی نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر میں مواصلاتی نظام کی بندش، بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور طاقت کے مبینہ استعمال کی رپورٹس باعث تشویش ہیں۔
انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں مقیم کئی افراد کے خاندان اس خطے میں موجود ہیں اور وہ اپنے عزیزوں کی خیریت معلوم نہیں کر پا رہے۔
رکن پارلیمنٹ نے خط میں لکھا کہ سیکیورٹی اقدامات، مظاہرین کے خلاف مبینہ طور پر ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال اور مواصلاتی رابطوں کی معطلی انسانی حقوق کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اطلاعات کے مطابق مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم پندرہ افراد کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔
جیس فلپس نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ آزاد جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ اور مواصلاتی سروسز فوری بحال کرانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ متاثرہ برطانوی شہریوں اور ان کے خاندانوں کی مدد کی جائے۔ مقامی حکام سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور احتجاج کے حق کا احترام کرنے کی یقین دہانی حاصل کی جائے۔اور صورتحال کو کشیدہ ہونے سے روکتے ہوئے شہریوں کے تحفظ اور پرامن حل کے لیے کردار ادا کیا جائے۔
رکن پارلیمنٹ نے برطانوی حکومت سے آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال پر سفارتی کوششوں اور آئندہ اقدامات سے اپنے حلقے کے عوام کو آگاہ کرنے کی درخواست بھی کی ہے۔
Share this content:


