کوٹل ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال کوٹلی کی ایمرجنسی وارڈ سے سامنے آنے والے مناظر نے صحت کے نظام میں دعوؤں اور زمینی حقائق کے درمیان واضح فرق کو اجاگر کر دیا ہے۔ چند گھنٹے کے مشاہدے میں جہاں ایک طرف طبی عملے کی محنت دکھائی دی، وہیں صفائی اور سہولیات کی ابتر صورتحال نے کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔
ایمرجنسی وارڈ میں موجود ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف محدود وسائل کے باوجود متحرک نظر آئے۔ مریضوں کو فوری طبی امداد دینا، انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا اور ہنگامی حالات سے نمٹنا، عملے کی پیشہ ورانہ ذمہ داری اور لگن کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ وہ خاموش خدمات ہیں جن پر بظاہر پورا نظام کسی نہ کسی حد تک قائم ہے۔
دوسری جانب ایمرجنسی وارڈ میں صفائی کے انتظامات انتہائی ناقص دکھائی دیے۔
پرانی اور خون آلود بیڈ شیٹس، گندے تکیے، فرش پر موجود کچرا اور مچھروں کی بہتات ایک ایسے ماحول کی نشاندہی کر رہی ہے جہاں علاج کے ساتھ انفیکشن کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہسپتالوں میں سینیٹیشن کی خراب صورتحال نہ صرف مریضوں بلکہ عملے کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اسپتال میں صرف 35 فیصد مستقل عملہ ڈیوٹی پر موجود ہے جبکہ باقی عملہ اعزازی بنیادوں پر خدمات انجام دے رہا ہے۔
اگر یہ اعداد و شمار درست ہیں تو یہ محض افرادی قوت کی کمی نہیں بلکہ انتظامی ترجیحات اور پالیسیوں پر بھی سوالیہ نشان ہے۔
میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال کے مطابق ایمرجنسی وارڈ میں صفائی کے لیے دو افراد چوبیس گھنٹے موجود رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مریضوں کے زیادہ رش کے باعث بعض اوقات صفائی کی صورتحال متاثر ہو جاتی ہے۔
یہ تمام صورتحال ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا ایمرجنسی جیسے حساس شعبے میں صفائی، سینیٹیشن اور عملے کی دستیابی اس معیار پر ہے جس کا تقاضا ایک مؤثر اور محفوظ صحت کا نظام کرتا ہے؟
ایمرجنسی وارڈ کے یہ مناظر اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ مریض صرف علاج ہی نہیں بلکہ ایک صاف، محفوظ اور باوقار ماحول کا بھی حق رکھتا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ متعلقہ حکام اس جانب توجہ دیتے ہیں یا یہ مسائل بدستور نظر انداز ہوتے رہیں گے۔
Share this content:


