تحریر: فرحان رضا / فاروق طارق
آزاد کشمیر کے دریاؤں سے مجموعی طور پر 2,660 میگاواٹ بجلی پیدا ہوتی ہے، جبکہ آزاد کشمیر کی اپنی کل ضرورت صرف 360 میگاواٹ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آزاد کشمیر اپنی ضرورت سے سات گنا زیادہ بجلی پیدا کر کے قومی گرڈ (National Grid) کو فراہم کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود وہاں کے عوام روزانہ 8 سے 10 گھنٹے کی بدترین لوڈشیڈنگ بھگتنے پر مجبور ہیں۔
جس خطے میں 100 فیصد بجلی پانی (ہایڈل) سے پیدا ہوتی ہو اور وہ 2 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پاکستان کے نیشنل گرڈ کو دیتا ہو، جب وہاں کے شہریوں کو بجلی کے بل بھیجے جاتے ہیں تو ان میں سندھ اور پنجاب میں لگے تھرمل آئی پی پیز (IPPs) کی ‘کپیسٹی پیمنٹ’ (Capacity Payment) بھی شامل کر دی جاتی ہے۔ کشمیریوں کا یہ جائز سوال ہے کہ جب ہمارا ان آئی پی پیز سے کوئی تعلق ہی نہیں، تو ان کی ادائیگیاں ہم کیوں کریں؟ اور یہ آئی پی پیز کس کی ملکیت ہیں، یہ سب جانتے ہیں؛ یہی وجہ ہے کہ کچھ مخصوص صحافی اور ن لیگ کے رہنما اس پر واویلا مچا رہے ہیں۔
مزید یہ کہ ان بلوں میں ‘فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز’ بھی شامل کیے جاتے ہیں۔ یعنی آزاد کشمیر کا شہری اپنے دریا سے بننے والی سستی بجلی کے پیسے نہیں دیتا، بلکہ وہ کراچی اور لاہور کے تھرمل پلانٹس کا بل بھی ادا کرتا ہے۔ وہ ان آئی پی پیز کو کپیسٹی پیمنٹ ادا کر رہا ہے جو اس کے لیے لگائی ہی نہیں گئیں؛ لیکن دوسری طرف جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا یہ جائز مطالبہ ‘غداری’ قرار دیا جاتا ہے کہ آزاد کشمیر کے لیے بجلی کا ٹیرف آئی پی پیز کے بجائے منگلا ڈیم سے بننے والی بجلی کی اصل لاگت پر طے کیا جائے۔
منگلا ڈیم، نیلم جہلم پراجیکٹ، پٹرنڈ، گلپور اور نئی بونگ جیسے تمام بڑے منصوبے آزاد کشمیر میں واقع ہیں۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب اپنے دریاؤں سے بجلی بنانے پر ‘نیٹ ہائیڈل پرافٹ’ لیتے ہیں۔ کے پی کے اور پنجاب کو 1 روپیہ 10 پیسے فی یونٹ ملتے ہیں، جبکہ اس کے برعکس آزاد کشمیر کو محض 15 پیسے فی یونٹ دیے جاتے ہیں۔ گزشتہ 10 سالوں میں آزاد کشمیر کو صرف 6.4 ارب روپے ملے، جبکہ خیبر پختونخوا کو 216 ارب روپے اور پنجاب کو 73 ارب روپے دیے گئے۔ جب کشمیریوں نے اس ناانصافی پر احتجاج کیا تو کاغذات میں فی یونٹ نرخ کے پی کے اور پنجاب کے برابر تو کر دیے گئے، لیکن پھر نئی قیمت کے مطابق ادائیگیاں ہی روک دی گئیں۔ اسی لیے وزیر اعظم آزاد کشمیر نے سینیٹ کمیٹی میں واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ پاکستان پر ہمارے 400 ارب روپے واجب الادا ہیں۔
لندن بسانے کا طعنہ اور منگلا ڈیم کی حقیقت
جب 1967ء میں منگلا ڈیم بنا تو آزاد کشمیر کے 280 سے زیادہ گاؤں ڈوب گئے اور 1 لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ لوگ بے گھر ہوئے۔ پوری ‘میرپور دادیال’ تہذیب پانی میں غرق ہو گئی۔ اس وقت عوام سے وعدہ کیا گیا تھا کہ انہیں مناسب معاوضہ ملے گا، بحالی ہوگی اور بجلی میں حصہ دیا جائے گا۔ لیکن چالیس سال بعد جب ‘منگلا ریزنگ پراجیکٹ’ (ڈیم کو اونچا کرنے کا منصوبہ) آیا، تو انہی لوگوں کو دوبارہ ہجرت کرنی پڑی جو پہلی بار کے معاوضے کے منتظر تھے۔ 2009ء میں یہ منصوبہ مکمل تو ہو گیا لیکن ڈیم کا ذخیرہ اس لیے نہیں بھرا جا سکتا تھا کیونکہ متاثرین کو تاحال معاوضہ ادا نہیں کیا گیا تھا۔
آج برطانیہ میں مقیم پاکستانی برادری کا 70 فیصد حصہ آزاد کشمیر کے دادیال اور میرپور کے علاقوں سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ تارکینِ وطن سالانہ 3 سے 4 ارب ڈالر کا زرِ مبادلہ (Remittances) پاکستان بھیجتے ہیں، جس سے ملکی معیشت چلتی ہے اور ٹیکس جمع ہوتا ہے۔
این ایف سی (NFC) سے محرومی مگر ٹیکس نیٹ میں شمولیت
آزاد کشمیر آئینی طور پر این ایف سی (NFC Award) کا حصہ نہیں ہے۔ 1973ء کا آئین صرف چاروں صوبوں کو ٹیکسوں سے جمع ہونے والی قابلِ تقسیم رقم (Divisible Pool) کی ادائیگی کے لیے شامل کرتا ہے، جس میں سیلز ٹیکس اور پٹرولیم لیوی جیسے ان ڈائریکٹ ٹیکسز شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 1973ء سے یہ ٹیکسز مسلسل کشمیر سے جمع کیے جا رہے ہیں، لیکن واپسی میں ایک معمولی حصہ ‘گرانٹ’ کے نام پر دیا جاتا ہے۔ یعنی عوام کا اپنا حق ان پر احسان جتا کر لوٹایا جاتا ہے۔
سال 2018ء میں ایک معاہدہ ہوا جس کے تحت آزاد کشمیر کا حصہ 3.6 فیصد ایک ‘ویریبل گرانٹ’ کی شکل میں طے پایا، لیکن یہ بھی حق کے بجائے ایک احسان کی شکل میں رکھا گیا جسے جب چاہیں کاٹ لیا جاتا ہے۔ اس حساب سے دیکھا جائے تو ہر سال وفاق کا ڈویژیبل پول تقریباً 7 سے 8 ہزار ارب روپے ہوتا ہے، جس میں آزاد کشمیر کا 3.6 فیصد حصہ تقریباً 260 سے 290 ارب روپے بنتا ہے؛ لیکن آزاد کشمیر کو صرف 105 ارب روپے دیے گئے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ باقی کے 150 سے 180 ارب روپے کہاں گئے؟
نیلم جہلم پراجیکٹ کا اسکینڈل
اسکینڈل کی حد یہ ہے کہ آزاد کشمیر کے نیلم دریا کا رخ موڑ کر اسے ایک سرنگ میں ڈال دیا گیا، جس سے مظفرآباد شہر کا دریا خشک ہو گیا، مچھلیاں مر گئیں اور مقامی ماحول تباہ ہو گیا۔ یہ پراجیکٹ بنیادی طور پر 84 ارب روپے کی لاگت سے بننا تھا لیکن کرپشن اور تاخیر کی وجہ سے 507 ارب روپے میں بنا۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اسے باقاعدہ ایک ‘ناکام منصوبہ’ قرار دیا ہے۔ سال 2022ء سے یہ بند پڑا ہے کیونکہ اس کی سرنگ میں دراڑیں آ چکی ہیں۔ پراجیکٹ بند ہے اور اسے ناکام تسلیم کیا جا چکا ہے، لیکن اس کے باوجود عوام سے اس کے قرضہ جات اب بھی وصول کیے جا رہے ہیں۔
اس پورے عمل میں آزاد کشمیر کو کیا ملا؟ نہ بجلی ملی، نہ رائلٹی ملی اور صاف دریا بھی ہاتھ سے چلا گیا۔ آپ آزاد کشمیر کی سڑکیں دیکھ لیں (کنٹونمنٹ علاقوں کو چھوڑ کر، وہاں سب بہترین ہوتا ہے)، راستوں، اسکولوں اور ہسپتالوں کی حالت زبوں حالی کا شکار ہے۔
حالیہ تحریک اور مستقبل کا حل
موجودہ تحریک سے قبل جب پچھلی دفعہ حکومت سے مذاکرات ہوئے تھے، تو بجلی کا ریٹ کم کرنے پر اتفاق ہوا تھا اور ایک یونٹ کی قیمت 3 روپے مقرر کی گئی تھی۔ لیکن اس کے بعد نہ تو بجلی کی سپلائی بہتر ہوئی اور نہ ہی وعدوں کے مطابق بجلی کے انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کیا گیا۔ یہ بھی طے ہوا تھا کہ اسمبلی کی 12 مخصوص نشستوں پر بات چیت جاری رہے گی، مگر حکومت مذاکرات کے بجائے اس لازوال عوامی تحریک کو طاقت کے بل بوتے پر کچلنے پر تلی ہوئی تھی۔ لہذا، پہلے مذاکرات میں وقت ضائع کیا گیا اور پھر ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔ اب اس جارحیت کے نتیجے میں جو ہلاکتیں ہوئی ہیں، ان پر پورے خطے میں شدید غصہ اور افسوس پایا جاتا ہے۔
9 جون کو خطے میں ایک تاریخی اور لازوال ہڑتال رہی ہے اور اب بھی قافلے مظفرآباد کی طرف رواں دواں ہونے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ حکومت ہوش کے ناخن لے، جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر عائد پابندی فوری ختم کرے، جان کی بازی ہارنے والے شہداء کے خاندانوں کو معاوضہ (Compensate) دے کر فضا کو بہتر بنائے اور سنجیدہ مذاکرات کا آغاز کرے۔
٭٭٭
Share this content:


