بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے گلگت بلتستان عوامی کمیٹی (Awami Action Committee) کے ارکان کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ 70 سالہ بزرگ رہنما احسان علی سمیت متعدد افراد کی حراست غیر قانونی ہے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی عکاسی کرتی ہے۔
بی وائی سی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے 13 ارکان انسانی حقوق کے کارکن ہیں، اور ان کی گرفتاری کو تنظیم نے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
بیان کے مطابق پاکستان اور اس کی عسکری اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے "غیر انسانی قوانین کے نفاذ” پر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام گرفتار ارکان کو بغیر کسی تاخیر کے فوری طور پر رہا کیا جائے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ان گرفتاریوں نے نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ بلوچستان میں بھی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بی وائی سی نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان کی عسکری اسٹیبلشمنٹ کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر جوابدہ بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
تنظیم کے مطابق گلگت بلتستان اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال تشویشناک ہے اور اس حوالے سے عالمی سطح پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔
Share this content:


