پلندری / مظفرآباد /خصوصی رپورٹ
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں سکیورٹی صورتحال اور عوامی حقوق کی تحریک کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن بدترین رخ اختیار کر گیا ہے۔ تازہ ترین واقعے میں مقتدر حلقوں اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں، حامیوں اور ان کے رشتہ داروں کو نشانہ بنانے کی ‘اجتماعی سزا’ (Collective Punishment) کی پالیسی کے تحت معروف یوٹیوبر عقیل بھائی کے شدید بیمار بڑے بھائی کو فورسز نے زبردستی اٹھا کر لاپتہ کر دیا ہے۔
متاثرہ خاندان اور مقامی ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، رینجرز اور پولیس کے بھاری دستوں نے رات گئے معروف یوٹیوبر عقیل بھائی کے گھر پر چھاپہ مارا۔اہلکاروں نے گھر میں داخل ہوتے وقت چادر اور چار دیواری کے تقدس کو بری طرح پامال کیا اور گھر میں موجود خواتین و بچوں کے سامنے شدید گالی گلوچ اور بدتمیزی کی گئی۔
عقیل بھائی کے بڑے بھائی، جو کہ طویل عرصے سے سخت بیمار اور بستر پر تھے، انہیں فورسز نے بے دردی سے مارا پیٹا اور شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد اسی حالت میں زبردستی اٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے۔ اطلاعات کے مطابق انہیں پلندری پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا ہے، جہاں ان کی حالت کے حوالے سے خاندان شدید تشویش کا شکار ہے۔
اس جابرانہ کارروائی کے بعد معروف یوٹیوبر عقیل بھائی نے اپنے تمام چاہنے والوں، دوستوں اور دیکھنے والوں سے اس مشکل گھڑی میں یکجہتی کی ہنگامی اپیل کی ہے۔
انہوں نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ: "ہمیں اس وقت آپ سب کی حمایت اور ساتھ کی اشد ضرورت ہے! ایک بیمار انسان کے ساتھ اس طرح کا غیر قانونی رویہ اور زبردستی سراسر ناانصافی اور ظلم ہے۔ میری تمام مکاتبِ فکر سے گزارش ہے کہ اس آواز کو آگے بڑھائیں، اسے زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ میرے معصوم اور بیمار بھائی کو جلد از جلد انصاف مل سکے اور ان کی باوقار رہائی ممکن ہو۔”
کشمیر بھر میں اس وقت حالات شدید کشیدہ ہیں۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ریاستِ پاکستان کی فورسز تحریک کو دبانے میں ناکامی کے بعد اب انتقامی اور اجتماعی سزا کی پالیسی پر اتر آئی ہیں۔ تحریک میں شامل رہنماؤں کے خاندانوں، رشتہ داروں اور ہمدردوں کو چن چن کر جبری طور پر لاپتہ اور گرفتار کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، مختلف اضلاع میں کمیٹی کے حامی تاجروں کے کاروباری مراکز، دکانیں اور املاک سیل کر کے انہیں شدید مالی و جانی نقصان پہنچایا جا رہا ہے تاکہ عوامی بیداری کی اس لہر کو خوف کے بل بوتے پر روکا جا سکے۔
مقامی سیاسی و سماجی حلقوں نے پلندری میں بیمار شہری پر تشدد اور اغوا کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی اور سکیورٹی فورسز کے انخلاء کا مطالبہ کیا ہے۔
Share this content:


