یکم مئی کو دنیا بھر کی طرح پاکستان زیر انتظام جموں کشمیر میں بھی یومِ مزدور منایا گیا۔
اس موقع پر مظفرآباد میں پی ڈبلیو ڈی ورکر یونین کی جانب سے سینٹرل پریس کلب کے سامنے ایک ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس میں محنت کشوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
ریلی کے شرکاء سرخ پرچم اٹھائے اپنے حقوق کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔
مقررین نے اپنے خطاب میں محنت کش طبقے کو درپیش مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مزدور آج بھی بنیادی حقوق سے محروم ہیں اور عملی اقدامات کا فقدان ہے۔
دوسری جانب خطے میں محنت کش طبقات کو شدید معاشی دباؤ اور استحصال کا سامنا ہے۔ حکومت کی جانب سے گزشتہ برس کم از کم ماہانہ اجرت 37 ہزار روپے مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا، تاہم اس پر مکمل عملدرآمد تاحال ممکن نہیں ہو سکا۔
ذرائع کے مطابق محکمہ صحت سمیت دیگر اداروں میں کام کرنے والے سینیٹری ورکرز، خاکروب اور دیگر نچلے درجے کے ملازمین اس سرکاری حکم نامے کے برعکس کم تنخواہوں پر کام کرنے پر مجبور ہیں، جو حکومتی دعوؤں اور زمینی حقائق کے درمیان واضح تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔
ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مزدور رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ کم از کم اجرت کے نوٹیفکیشن پر فوری اور مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے، اور خلاف ورزی کے مرتکب اداروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ محنت کشوں کے بغیر ترقی کا خواب ادھورا ہے، اس لیے ان کے حقوق کا تحفظ ناگزیر ہے۔
یاد رہے کہ یومِ مزدور دنیا بھر میں محنت کشوں کی جدوجہد، قربانیوں اور حقوق کی یاد میں منایا جاتا ہے، تاہم مقامی سطح پر اس دن کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب عملی طور پر مزدور اپنے بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
Share this content:


