باغ/کاشگل نیوز،نمائندہ خصوصی
دنیا بھر میں آج عالمی یومِ صحافت منایا جا رہا ہے، جہاں آزادیٔ اظہار اور صحافیوں کے تحفظ کے عزم کو دہرایا جاتا ہے، وہیں پاکستانی کشمیر میں ورکنگ جرنلسٹس کو درپیش مشکلات ایک سنجیدہ سوال بن چکی ہیں۔
پاکستانی کشمیر کے شہر باغ سے تعلق رکھنے والے ورکنگ جرنلسٹ سردار اویس گزشتہ ایک برس سے مختلف مقدمات اور دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان کے خلاف متعدد قانونی کارروائیاں کی جا چکی ہیں، جنہیں صحافتی حلقے انتقامی اقدامات قرار دے رہے ہیں۔
سردار اویس کو نہ صرف قانونی مسائل کا سامنا ہے بلکہ کالعدم تنظیموں کی جانب سے دھمکیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال خطے میں صحافیوں کے لیے خطرات میں اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔
مقامی مبصرین کے مطابق خطے میں مقتدرہ اور سیاسی اشرافیہ کی جانب سے تنقیدی آوازوں کو دبانے کی کوششیں جاری ہیں، جس کے باعث آزاد صحافت کا دائرہ محدود ہوتا جا رہا ہے۔ ورکنگ جرنلسٹس کو ہراساں کرنے اور ان پر دباؤ ڈالنے کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
سردار اویس نے کاشگل نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں حکومت کی جانب سے صحافیوں کے لیے کوئی واضح معیار (کریٹیریا) موجود نہیں۔ ان کے بقول:
“صحافیوں کے حقوق اور تحفظ کے لیے عملی اقدامات کی شدید ضرورت ہے، تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکیں۔”
میڈیا ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنان نے مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس قانون سازی کی جائے اور آزادیٔ صحافت کو یقینی بنایا جائے، تاکہ جمہوری اقدار کو فروغ دیا جا سکے۔
عالمی یومِ صحافت کے موقع پر جہاں دنیا بھر میں صحافیوں کی خدمات کو سراہا جا رہا ہے، وہیں پاکستانی کشمیر میں موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ صحافت کے شعبے کو درپیش چیلنجز کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے اور فوری اقدامات کیے جائیں۔
Share this content:


