پاکستانی کشمیر میں ہوائی فائرنگ کے واقعات میں اضافہ، شہری عدم تحفظ کا شکار

پاکستانی کشمیر کی سب ڈویژن تھوراڑ میں شادی بیاہ کی تقریبات اب خوشیوں کے بجائے خوف کی علامت بنتی جا رہی ہیں۔ مختلف علاقوں، خصوصاً مورین، سردی اور اندروٹ میں ہوائی فائرنگ ایک معمول بن چکی ہے، جو نہ صرف قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی جانوں کے لیے بھی سنگین خطرہ بن رہی ہے۔

نیشنل ایکشن پلان کے تحت اسلحے کی نمائش اور ہوائی فائرنگ پر واضح پابندی عائد ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔ شادیوں میں اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں متعدد گھروں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ کئی مقامات پر گولیوں کے باعث ٹین کی چھتیں چھلنی ہو چکی ہیں، جس سے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔

مقامی آبادی کے مطابق رات گئے ہونے والی فائرنگ سے بچوں، خواتین اور بزرگوں میں شدید اضطراب پیدا ہو رہا ہے، جبکہ کسی بھی وقت جانی نقصان کا خدشہ موجود ہے۔

تشویشناک امر یہ ہے کہ انتظامیہ اس صورتحال پر خاموش دکھائی دیتی ہے اور اب تک کسی مؤثر کارروائی کے آثار نظر نہیں آئے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ہوائی فائرنگ کے خلاف فوری اور سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ علاقے میں امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے اور عوام کو اس خطرناک رجحان سے نجات دلائی جا سکے۔

Share this content: