آٹے کے تھیلے سے اقتدار کے محل تک پھیلی کرپشن کی سلطنت

تحریر: جمیل صدیقی

پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر اس وقت ایک ایسے تاریخی اور خطرناک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ریاستی اداروں کی چمکتی ہوئی تختیاں تو موجود ہیں، مگر ان اداروں کے اندر سے خدمت، دیانت، انصاف، انسانیت اور عوامی احساس کی روح تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ حکومتی ایوانوں میں بیٹھے ہوئے چہروں کے لباس، پروٹوکول اور بیانات تو جدید معلوم ہوتے ہیں مگر نظامِ حکمرانی کی روح صدیوں پرانی فرسودگی، نااہلی، اقربا پروری اور کرپشن کے اندھیروں میں دفن ہو چکی ہے۔

آج اس خطے کے عوام صرف مہنگائی، بے روزگاری یا بدانتظامی کا شکار نہیں بلکہ ایک ایسے منظم ریاستی استحصال کا سامنا کر رہے ہیں جہاں غریب آدمی کی زندگی، عزت، بھوک، بیماری اور مستقبل سب کچھ چند مراعات یافتہ طبقات کے مفادات کے تابع بنا دیا گیا ہے۔

ریاست کے گلی کوچوں، بازاروں، سرکاری دفاتر، ہسپتالوں، عدالتوں، تعلیمی اداروں اور شاہراہوں کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہاں حکومت نہیں بلکہ بے حسی، لاقانونیت اور مفاد پرستی کی کوئی طویل حکومت قائم ہو۔

سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ آج عوام کے بنیادی حق یعنی “روٹی” کو بھی ایک سیاسی، انتظامی اور کاروباری بحران بنا دیا گیا ہے۔ آٹے کا موجودہ بحران دراصل صرف گندم یا سپلائی کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پورے حکومتی ڈھانچے کی نااہلی، بدعنوانی اور بے حسی کا زندہ ثبوت ہے۔

محکمہ خوراک، جس کا کام عوام کے گھروں کے چولہے جلانا تھا، آج خود کرپشن، کمیشن خوری، ذخیرہ اندوزی، اقربا پروری، سیاسی مداخلت اور انتظامی بے شرمی کا سب سے بڑا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ عوام صبح سویرے آٹے کے حصول کے لیے قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں، بوڑھے افراد لاٹھیوں کے سہارے لائنوں میں ذلیل ہوتے ہیں، بیمار خواتین دھکم پیل کا شکار بنتی ہیں، مزدور اپنی دیہاڑی چھوڑ کر سرکاری ڈپوؤں کے باہر کھڑے رہتے ہیں، مگر جواب وہی ملتا ہے:
آٹا ختم ہو گیا، کل دوبارہ آنا۔
مگر حیرت اس بات پر نہیں کہ آٹا ختم ہو جاتا ہے، حیرت اس بات پر ہے کہ یہی آٹا چند گھنٹوں بعد بلیک مارکیٹ میں وافر مقدار میں مہنگے داموں دستیاب ہو جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سا جادو ہے جو سرکاری گوداموں سے آٹے کو غائب اور بازاروں میں ظاہر کر دیتا ہے؟

یہ راز اب عوام پر پوشیدہ نہیں رہا۔ لوگ جان چکے ہیں کہ آٹے کی بوری عوام تک پہنچنے سے پہلے کمیشن، سفارش، ذخیرہ اندوزی اور کرپشن کی کئی منازل طے کرتی ہے۔ ریاستی دفاتر میں بیٹھے ہوئے کئی افسران شاید یہ بھول چکے ہیں کہ وہ عوام کے خادم ہیں، حاکم نہیں۔

اگر کبھی محکمہ خوراک کے دفتروں کی دیواریں بول پڑیں تو شاید گندم کی گمشدہ بوریاں، جعلی سپلائی ریکارڈ، کاغذی تقسیم، سیاسی نوازشات اور کمیشن کی ایسی داستانیں سامنے آئیں کہ عوام کے صبر کا بند ٹوٹ جائے۔
یہ المیہ صرف خوراک کے شعبے تک محدود نہیں۔ ریاستی حکومت کا ہر شعبہ اس وقت بے حسی، بدانتظامی اور کرپشن کے سرطان میں مبتلا دکھائی دیتا ہے۔

وزراء کرام کے مزاج ملاحظہ ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے ریاست میں سب کچھ بہترین چل رہا ہو۔ سرکاری خزانے سے چلنے والے شاہانہ قافلے، پروٹوکول کی لمبی قطاریں، غیر ضروری بیرونی دورے، نمائشی اجلاس، ہوٹلوں میں پرتکلف دعوتیں، سرکاری گاڑیوں کی فوج، پٹرول کی بے دریغ کھپت، مشیروں اور کوآرڈینیٹرز کی فوجِ ظفر موج — یہ سب کچھ ایسے جاری ہے جیسے عوام نہیں بلکہ خزانے صرف اقتدار کے مزے لینے والوں کے لیے پیدا کیے گئے ہوں۔

ایک طرف غریب آدمی آٹے کی بوری کے لیے اپنی عزت نفس مجروح کروا رہا ہے، دوسری طرف اقتدار کے ایوانوں میں عیاشیوں کے نئے ریکارڈ قائم کیے جا رہے ہیں۔ عوام کے ٹیکس سے بننے والا بجٹ عوام پر کم اور حکمرانوں کے پروٹوکول پر زیادہ خرچ ہوتا محسوس ہوتا ہے۔

ریاستی حکومت شاید اب بھی اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ عوام ہمیشہ کی طرح خاموش رہیں گے، چند اعلانات، چند جھوٹے وعدے اور چند نمائشی بیانات حالات کو قابو میں رکھ لیں گے۔ مگر حکمران شاید یہ بھول رہے ہیں کہ جب بھوک بڑھتی ہے تو غصہ بھی بڑھتا ہے، اور جب غصہ شعور میں بدل جائے تو پھر تخت و تاج زیادہ دیر محفوظ نہیں رہتے۔

صحت کا نظام بھی اس وقت تباہی کی ایسی تصویر پیش کر رہا ہے جسے دیکھ کر انسانیت بھی شرمندہ ہو جائے۔ شہر اقتدار کے بڑے سرکاری ہسپتالوں کو ہی اگر شفاخانے کے بجائے قصاب خانےکہا جائے تو شاید یہ مبالغہ نہ ہو۔

ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے نہ دوائیاں موجود ہیں، نہ مشینری مکمل فعال، نہ بروقت علاج، نہ انسانی ہمدردی۔ ڈاکٹرز کی ہڑتالیں، پیرامیڈیکل اسٹاف کے احتجاج، انتظامیہ کی بے حسی اور وسائل کی لوٹ مار نے غریب آدمی کو زندہ لاش بنا دیا ہے۔

وارڈز میں مریض فرش پر پڑے کراہ رہے ہوتے ہیں، لواحقین دوائیوں کی پرچیاں ہاتھوں میں لیے بازاروں میں دھکے کھاتے پھرتے ہیں، اور حکمران طبقہ صحت کے بہترین نظام کے دعوے کرتا نہیں تھکتا۔
ریاست کے غریب عوام بیماری سے کم اور نظامِ صحت کی بے رحمی سے زیادہ مر رہے ہیں۔

تعلیم کا شعبہ بھی حکمرانوں کی ترجیحات کے جنازے کا سب سے بڑا گواہ ہے۔ 2005 کے ہولناک زلزلے میں تباہ ہونے والے کئی تعلیمی ادارے آج دو دہائیاں گزرنے کے باوجود مکمل بحال نہ ہو سکے۔ معصوم بچے اور بچیاں آج بھی کھلے آسمان تلے، ٹوٹے پتھروں، خستہ کمروں اور خطرناک عمارتوں میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔

کئی اسکول اساتذہ سے محروم، کئی بنیادی سہولیات سے خالی، کئی سیاسی مداخلت کا شکار اور کئی صرف کاغذوں میں موجود ہیں۔ مگر حکمران طبقہ تعلیم کے بجائے سیاسی جلسوں، افتتاحی تختیوں اور فوٹو سیشنز میں مصروف ہے۔

انفراسٹرکچر کی صورتحال بھی کسی تباہ حال جنگ زدہ خطے کا منظر پیش کرتی ہے۔ ٹوٹی سڑکیں، ادھورے پل، لینڈ سلائیڈنگ سے تباہ راستے، ناقص تعمیراتی منصوبے اور برسوں سے رکے ہوئے ترقیاتی کام اس حقیقت کا اعلان کر رہے ہیں کہ یہاں ترقی کمیشن کی سیاست کے تابع ہے۔

یہاں ہر منصوبہ عوامی ضرورت سے زیادہ کمیشن کے حساب سے بنتا ہے۔
منصوبہ شروع ہونے سے پہلے کمیشن،
کام کے دوران کمیشن،
اور منصوبہ تباہ ہونے کے بعد مرمت کے نام پر دوبارہ کمیشن۔
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس ریاست میں ترقیاتی منصوبے عوام کے لیے نہیں بلکہ مخصوص جیبوں کی افزائش کے لیے تخلیق کیے جاتے ہوں۔

ان تمام حالات کے باوجود حکمران طبقہ عوامی غصے کی شدت کو شاید اب بھی سمجھنے سے قاصر ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی جیسے پلیٹ فارمز کا ابھرنا دراصل اس اجتماعی بے چینی، محرومی اور غصے کا اظہار ہے جسے دہائیوں تک دبا کر رکھا گیا۔

یہ صرف ایک تنظیم نہیں بلکہ ایک سوال ہے اور یہ سوال حکمرانوں سے پوچھ رہا ہے کہ آخر عوام کب تک بھوک، بیماری، بے روزگاری، بدانتظامی اور کرپشن کا بوجھ اٹھاتے رہیں گے؟

عوام اب پہلے جیسی نہیں رہی۔ اب لوگ سیاسی اداکاری، جذباتی نعروں، نمائشی پریس کانفرنسوں اور مصنوعی انقلابی تقریروں سے متاثر نہیں ہوتے۔ اب سوشل میڈیا، شعور اور مسلسل بڑھتی ہوئی سیاسی آگاہی نے عوام کو حقیقت دکھا دی ہے۔
لوگ اب پوچھتے ہیں:
آخر آٹھ دہائیوں میں ہمیں ملا کیا؟
کھنڈر نما اسکول؟
قصاب خانے بنے ہسپتال؟
کمیشن خور ادارے؟
آٹے کی قطاریں؟
یا کرپشن کے نئے عالمی ریکارڈ؟

ریاستی اشرافیہ کو سمجھ لینا چاہیے کہ اب مسئلہ صرف آٹے کے تھیلے کا نہیں رہا بلکہ پورے نظام پر عوامی اعتماد کے خاتمے کا ہے۔ اور جب کسی ریاست میں عوام کا اعتماد مر جائے تو پھر ریاستی عمارتیں باقی رہتی ہیں، ریاست نہیں۔

اگر حکمران طبقہ اب بھی ہوش کے ناخن نہ لے سکا، اگر کرپشن کے اس ناسور کو جڑ سے ختم نہ کیا گیا، اگر عوام کو روٹی، انصاف، صحت، تعلیم اور عزت نہ دی گئی، تو پھر وہ وقت دور نہیں جب عوامی غصہ ہر مصنوعی دیوار کو گرا دے گا۔
پھر شاید تاریخ یہی لکھے گی کہ:
جب ریاست نے عوام سے روٹی چھینی، تو عوام نے خاموشی چھین لی۔

٭٭٭

Share this content: