پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جاری عوامی مطالبات اور حکومتی مذاکرات کے تناظر میں وفاقی وزیر امور کشمیر امیر مقام نے محکمہ اطلاعات کے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت مذاکراتی عمل کے حوالے سے شروع دن سے سنجیدہ رہی ہے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
امیر مقام نے کہا کہ حکومت “جو کچھ کر سکتی ہے اس سے بھی زیادہ دینے کے لیے تیار ہے”، جبکہ اب تک 37 نکاتی ایجنڈے پر عملدرآمد ہو چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آج بھی مذاکرات خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں ہوئے، جس میں مختلف امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ بین الاقوامی حالات کے تناظر میں پاکستان کو داخلی استحکام کی ضرورت ہے کیونکہ “اس وقت پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر ہیں”۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی قیادت اور فیلڈ مارشل کی کاوشوں سے ملک کو بہتر سمت میں لے جایا جا رہا ہے۔
مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ یہ معاملہ آئینی کمیٹی کے پاس ہے، جبکہ 14 مئی کو ہونے والے اجلاس میں کور کمیٹی کے اراکین اس حوالے سے تفصیلی مشاورت کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکسز کے معاملے پر بھی مذاکرات میں بات ہوئی ہے۔
ان کے مطابق حکومت نے وزراء کی تعداد کم کر دی ہے جبکہ مختلف محکموں کے انضمام کا عمل بھی جاری ہے تاکہ اخراجات میں کمی لائی جا سکے اور انتظامی نظام کو مؤثر بنایا جا سکے۔
Share this content:


