مظفرآباد/کاشگل نیوز
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت کے مابین مذاکرات ایک بار پھر ناکام ہو گئے، جس کے بعد جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو آزادکشمیر بھر میں مکمل احتجاج اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کر دیا۔
عوامی تاجر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں شاکر نواز میر، راجہ امجد علی خان ایڈووکیٹ، عمر نذیر خان و دیگر نے سنٹرل پریس کلب مظفرآباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مسلسل طے شدہ معاہدوں سے انحراف کر رہی ہے اور تاجروں سمیت عوامی حلقوں کے جائز مطالبات کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے ٹال مٹول سے کام لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چار اکتوبر کو حکومت اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان ہونے والے معاہدے پر آج تک مکمل عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
کمیٹی نے خیرسگالی کے جذبے کے تحت ڈیڈ لاک ختم کرتے ہوئے 31 مئی تک مذاکرات جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی تھی، تاہم اس دوران بھی حکومتی نمائندوں کی جانب سے کوئی سنجیدہ پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
رہنماؤں نے کہا کہ عوامی مطالبات آج بھی التواء کا شکار ہیں جبکہ حکومت صرف وقتی اعلانات اور وعدوں تک محدود ہے۔
انہوں نے کہا کہ انشورنس کمپنی کو ہیلتھ کارڈ کے حوالہ سے ادائیگی نہیں،کشمیر بینک کو سٹیٹ بینک کیا تو شیڈل کرنے کے بجائے ایک برانچ کو آن لائن کرنے کی بات کرتے ہیں۔،بجلی کی مد میں 10ارب روپے ایمرجنسی میں ٹرانسفارمر،تاروں کے لیے واپڈا کے ذریعے استعمال ہو گا آج تک ادارے پی سی ون کے چکروں میں ہے،اس حوالہ سے وعدوں کی پاسداری نہیں کی گئی۔
کہوڑی ٹنل کے حوالہ سے 30ارب روپے سعودی کویت فنڈ کے لیے مختص ہو رہے تھے۔ریڈزون قرار دیکر منصوبہ کو سبوتاژ کیا گیا۔ہائیڈل پراجیکٹس بن سکتے ہیں تو کہوڑی ٹنل کیوں نہیں بن سکتے۔کہوڑی کامسر روڈ کی سلائیڈنگ موجود ہے اوور ہیڈ برجز بنادیں کہا جاتا ہے کہ یہ نہیں لگ سکتا یہ فنڈ کیوں دوسری طرف لے جاتے ہیں۔
کشمیر بینک کو اسٹیٹ بینک کے شیڈول بینک کا درجہ دلانے کے حوالے سے بھی عملی اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ اسی طرح بجلی کے نظام کی بہتری، ٹرانسفارمرز، تاروں اور دیگر ضروری سامان کی فراہمی کے لیے مختص فنڈز کے استعمال میں بھی شفافیت نہیں برتی جا رہی۔
رہنماؤں نے کہا کہ اسمبلی سے منظور شدہ اربوں روپے کے فنڈز عوامی فلاح و بہبود پر خرچ ہونے کے بجائے غیر ضروری امور پر استعمال کیے جا رہے ہیں جس سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مہنگائی، بے روزگاری اور بجلی بحران نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے مگر حکومت عوامی مسائل کے حل کے بجائے صرف بیانات تک محدود ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے فوری طور پر معاہدے پر عملدرآمد اور عوامی مطالبات تسلیم نہ کیے تو 9 جون کو آزادکشمیر بھر میں مکمل احتجاج، شٹر ڈاؤن ہڑتال اور پہیہ جام کیا جائے گا جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔
انہوں نے تاجروں، ٹرانسپورٹرز، وکلاء، سول سوسائٹی اور تمام مکاتب فکر سے اپیل کی کہ وہ عوامی حقوق کی اس تحریک میں بھرپور شرکت کریں تاکہ حکومت کو عوامی مسائل حل کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔
Share this content:


